
نئی دہلی، 28فروری(ہ س)۔دہلی کی بی جے پی حکومت جس پرائیویٹ اسکول فیس کنٹرول ایکٹ کو دہلی کے متوسط طبقے کے والدین کے لیے ماسٹر اسٹروک قرار دے رہی تھی، وہ قانون آئندہ تعلیمی سیشن میں بھی نجی اسکولوں کی بڑھائی گئی فیس پر لاگو نہیں ہوگا۔ یعنی نجی اسکول اپنی من مانی بڑھائی گئی فیس متوسط طبقے کے والدین سے وصول کریں گے اور والدین اسے ادا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ریکھا گپتا حکومت کی جانب سے عدالت میں یہ صورتِ حال واضح کیے جانے کے بعد عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکھا گپتا حکومت اور نجی اسکولوں کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ قانون کو ماسٹر اسٹروک بتا کر ریکھا گپتا حکومت نے دہلی کے متوسط طبقے کو بڑا دھوکہ دیا ہے۔ اب حکومت نے اس قانون کو آئندہ تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے بھی غیر موثر بنا دیا ہے۔ ہفتہ کے روز ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ بڑی خبر ہے کہ نجی اسکول مالکان اور بی جے پی کی دہلی حکومت کا گٹھ جوڑ آج ہائی کورٹ میں ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا پرائیویٹ فیس ایکٹ 2025-26 کے لیے بڑھائی گئی نجی اسکول فیس پر لاگو نہیں ہوگا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ اب ہائی کورٹ میں بھی آئندہ سیشن 2026-27 کے لیے اس ایکٹ کو غیر موثر قرار دے دیا گیا ہے۔اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اپریل 2025 میں بیشتر اسکولوں کی جانب سے کی گئی بھاری فیس میں اضافہ واپس نہیں لیا جائے گا۔ اب متوسط طبقے کے والدین کو یہ بڑھی ہوئی اسکول فیس ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔سوربھ بھاردواج نے مزید کہا کہ ہم ابتدا سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایکٹ صرف نجی اسکول مالکان کو فائدہ پہنچانے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس حکومت نے مکمل رازداری کے ساتھ یہ ایکٹ تیار کیا۔ اس سلسلے میں والدین یا سرپرست تنظیموں سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا اور نہ ہی اس بل پر عوام سے کوئی تجاویز حاصل کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے اس رویے نے دہلی کے متوسط طبقے کے خاندانوں پر معاشی بوجھ میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے دہلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایکٹ میں فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نجی اسکول والدین پر من مانی طور پر بڑھائی گئی فیس مسلط نہ کر سکیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais