
کولکاتا، 28 فروری (ہ س)۔ مغربی بنگال میںخصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر ) کے عمل کے بعد انتخابی کمیشن کی جانب سے مرحلہ وار شائع کی جانے والی نظرثانی شدہ ووٹرفہرستوں سے اسمبلی انتخابات سے قبل بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تصویر سامنے آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، عمل کے آغاز سے لے کر اب تک نادیہ ضلع میں فہرست سے تقریباً 2.71 لاکھ ناموں کو حذف کر دیا گیا ہے، جب کہ ضلع بانکوڑا میں تقریباً 1.18 لاکھ ووٹروں کی کمی درج کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق، شمالی کولکاتہ خطہ میں نظرثانی کے عمل کے دوران تقریباً 4.07 لاکھ ناموں کو ہٹا دیا گیا، جس میں اس وقت حکمراں جماعت کے پاس سات اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ ان میں سے تقریباً 3.90 لاکھ ناموں کو مسودہ فہرست (ڈرافٹ لسٹ)کی سطح پر ہٹا دیا گیا، جبکہ مزید 17000 ناموں کو حتمی فہرست سے حذف کر دیا گیا۔ تاہم اس خطے میں شامل نئے ناموں کی حتمی تعداد ابھی تک سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئی ہے۔
بانکوڑا ضلع میں نظرثانی کے عمل کے آغاز پر، ووٹروں کی کل تعداد 3,033,830 تھی۔ ڈرافٹ لسٹ جاری ہونے کے بعد یہ تعداد گھٹ کر 2,910,090 رہ گئی۔ سماعت اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے اگلے مرحلے میں، تقریباً چار ہزار مزید ناموں کو ہٹا دیا گیا، جبکہ فارم 6 کے تحت چند ہزار نئے نام بھی شامل کیے گئے۔ حتمی فہرست میں اب تقریباً 2,915,000 ووٹرز ہیں، جو پورے عمل کے دوران تقریباً 118,000 کی خالص کمی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل ضلع نادیہ میں ووٹرز کی تعداد4 نومبر کو عمل شروع ہونے کے وقت 44.18 لاکھ تھی، لیکن حتمی فہرست میں یہ کم ہو کر تقریباً 41.45 لاکھ رہ گئی۔ 16 دسمبر کو ڈرافٹ لسٹ شائع ہونے کے بعد یہ تعداد 42لاکھ دو ہزار 261رہ گئی۔ اس طرح ضلع میں کل تقریباً 2.73لاکھ ناموں کو ہٹا دیا گیا۔
شمالی بنگال کے علی پور دوار ضلع میں 11 لاکھ 96 ہزار 651 ووٹروں کے نام حتمی فہرست میں شامل ہیں، جب کہ یہاں کل 1 لاکھ 2 ہزار 835 ناموں کو حذف کیا گیا ہے۔
اپ ڈیٹ شدہ ووٹر لسٹ کی ہارڈ کاپیاں ہفتے کے روز کئی اضلاع میں آویزاں کی گئیں، حالانکہ مکمل فہرست کمیشن کے نامزد پورٹل اور موبائل ایپلیکیشن پر دوپہر تک پوری طرح سے دستیاب نہیں تھی۔ کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ نام ہٹانے کی بنیادی وجوہات موت، منتقلی ، ڈپلیکیشن اور متعلقہ شخص کا پتہ نہ لگ پانا رہا، جب کہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد نئے نام شامل کیے گئے۔
کمیشن کے مطابق، 16 دسمبر کو جاری کردہ مسودہ فہرست میں شامل 7.08کروڑ ووٹرز کو تین : منظور شدہ، حذف شدہ اور زیر غور زمروں میں درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس سے قبل، اگست 2025 تک ریاست میں ووٹروں کی کل تعداد7.66 کروڑ تھی، جو جانچ کے پہلے دور میں 58 لاکھ سے زیادہ ناموں کو حذف کرنے کے بعد کم ہو کر 7.08 کروڑ رہ گئی تھی۔
سال2002 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح کی جامع ریاست گیر نظرثانی کا عمل منعقد کیا گیا ہے۔ اس عمل کے دوران، 1.67 کروڑ ووٹرز پر مشتمل کیسز کی سماعت کی گئی، جن میں سے 1.36 کروڑ کی منطقی تضادات کی نشاندہی کی گئی اور 31 لاکھ ناموں کی مناسب میپنگ نہیں پائی گئی تھی۔ تقریباً 60 لاکھ ووٹرز زیر التوا زمرے میں ہیںاور فیصلوں کی بنیاد پر ضمنی فہرستیں مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔
فہرست کی اشاعت کے ساتھ ہی مختلف اضلاع میں عوام میں بے چینی پھیل گئی۔ ضلع انتخابی دفاتر کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں، جہاں ووٹرز یہ چیک کرنے کے لیے جمع ہوئے کہ آیا ان کے نام اپ ڈیٹ شدہ فہرست میں شامل ہیں یا نہیں۔ کئی مقامات پر لوگوں کو نوٹس بورڈز پر آویزاں فہرستوں کی کاپیاں دیکھ کر اور اپنے موبائل فون سے تصاویر کھینچ کر اپنے نام تلاش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ اور سب ڈویژنل دفاتر پر بھی لوگوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
ووٹر لسٹ کی اس وسیع نظر ثانی کو اپریل میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جارہا ہے۔ اس عمل کے مقصد اور اثرات کو لے کر حکمراں جماعت اور مرکزی اپوزیشن جماعت کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ جب کہ کمیشن نے اسے صاف ستھری اور غلطیوں سے پاک ووٹر لسٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک قانونی عمل قرار دیا ہے، سیاسی جماعتیں بوتھ کی سطح پر اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی ہیں، کیونکہ کلیدی اضلاع میں ووٹر کی تعداد میں معمولی تبدیلی بھی انتخابی ریاضی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد