
سلطان پور، 28 فروری (ہ س)۔ اتر پردیش کے سلطان پور ضلع میں کابینہ کے وزیر او پی راج بھر نے کہا کہ شنکراچاریہ کا کام مذہب کی تبلیغ کرنا اور لوگوں کو اس مذہب سے جوڑنا ہے۔ اگر سنت اور مہاتما وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے خلاف بول رہے ہیں تو وہ اپنے دائرہ کار سے ہٹ کر بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شنکراچاریہ کو حکومت کے خلاف بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ حکومت نے ان کا کیا نقصان کر دیا ہے؟ اگر آپ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں گے تو قانون اپنا کام کرے گا۔
وہ ہفتہ کو رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ضلع پہنچے تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے شنکراچاریہ تنازعہ پر بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شنکراچاریہ کا کام نہیں ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے لڑیں ،یا ان کے خلاف بے بنیاد بیان دیں یا پھر وزیر اعظم کے خلاف بے بنیاد بیان دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مان لیتے ہیں کہ اس بار ان کے خلاف کاروائی غلط ہوئی ، لیکن سماج وادی پارٹی کی حکومت کے دوران 1990 میں ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج کی گئی؟ صرف انہیں کے خلاف ہی کیوں ہوتی ہے؟ اور بھی تو شنکراچاریہ ہیں۔“
مبینہ شراب گھوٹالے میں کیجریوال اور سسودیا کے بری ہونے کے سوال پر، انہوں نے کہا، ”چاہے سی بی آئی ہو یا ای ڈی، یہ خود مختار ایجنسیاں ہیں، جب اس کو کوئی درخواست دیتا ہے تو وہ تحقیقات کرتی ہیں، حکومت کو اس سے کیا لینا دینا ہے؟ اگر حکومت مقدمہ درج کرائے ، تو وہ قصوروار ہے، جب ایجنسی خود ہی مقدمہ درج کر رہی ہے،وہ عدالت میں یہ ثابت نہیں کر پا رہی ہے تو اس میں حکومت کا کیا قصوروار ہے؟ایسے افسر جو بدعنوانی کے کام کر رہے ہیں، ان پر کاروائی ہونی چاہیے ، ہم اس کے حامی ہیں۔
پنچایتی انتخابات کے تعلق سے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ووٹر لسٹ 15 اپریل کو شائع کی جائے گی۔ لوگوں میں جو الجھن ہے ، وہ یہ کہ تمام عہدیدار ایس آئی آر میں مصروف ہیں۔ بورڈ کے امتحانات جاری ہیں۔ مردم شماری سامنے ہے۔ اس تعلق سے لوگوں میں الجھن ہے۔انتخابات وقت پر ہوں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد