کھمم۔دیورپلی گرین فیلڈ ہائی وے کا اپریل سے کام شروع کرنا متوقع
حیدرآباد، 28 فروری(ہ س)۔ ملک کی تیزرفتارترقی میں بنیادی ڈھانچہ بالخصوص ٹرانسپورٹ نظام کی اہمیت کوپیش نظررکھتے ہوئے حکومت ہندکی جانب سے ملک بھرمیں شاہراہوں کی توسیع کے منصوبوں میں تیزی لائی جارہی ہے۔اسی مقصد کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیانے ک
کھمم۔دیورپلی گرین فیلڈ ہائی وے کا اپریل سے کارکرد ہونا متوقع


حیدرآباد، 28 فروری(ہ س)۔ ملک کی تیزرفتارترقی میں بنیادی ڈھانچہ بالخصوص ٹرانسپورٹ نظام کی اہمیت کوپیش نظررکھتے ہوئے حکومت ہندکی جانب سے ملک بھرمیں شاہراہوں کی توسیع کے منصوبوں میں تیزی لائی جارہی ہے۔اسی مقصد کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیانے کھمم اوردیورپلی کے درمیان 162کلومیٹرطویل 4 لین ایکسیس کنٹرولڈ گرین فیلڈ ہائی وے کی تعمیر مکمل کرلی ہے جس کے اپریل تک آغاز کی توقع ہے۔ 4,451.87 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ باوقار منصوبہ تلنگانہ کے ضلع کھمم کے تلمپاڈہ سے شروع ہو کرآندھرا پردیش کے دیورپلی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس شاہراہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں تلگوریاستوں کی پہلی ایکسیس کنٹرولڈ گرین فیلڈ سڑک ہے۔ 162 کلومیٹر میں سے 106 کلومیٹر کا حصہ تلنگانہ اور57 کلومیٹر آندھراپردیش میں واقع ہے۔اس ہائی وے کے کارکرد ہونے سے حیدرآباداوروشاکھاپٹنم کے درمیان فاصلہ تقریباً 56 کلومیٹرکم ہوجائےگاجس سے مسافروں کے2سے4 گھنٹے بچ سکیں گے۔اس منصوبے میں جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پوری شاہراہ پر10بڑے پل،49 چھوٹے پل،295 کلورٹس اور98 انڈرپاسس تعمیر کئے گئے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کویقینی بنانے کے لئے تعمیرات میں این ٹی پی سی راما گنڈم کی فلائی ایش کا استعمال کیا گیا ہے۔انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز نمونہ اس کا بو۔اسٹرنگ گرڈر برج ہے جو ریلوے ٹریک کے اوپرتعمیرکیاگیاہے۔ 350 ٹن وزنی اس پل کو ریلوے ٹریفک میں خلل ڈالے بغیر،ٹریک سے دور اسمبل کرکے ہائیڈرولک سسٹم کے ذریعہ سلائیڈ کر کے نصب کیا گیا ہے۔ یہ پل اگلے 150 سالوں تک پائیداررہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہراہ پرمسافروں کے تحفظ کے لئے ایڈوانسڈ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ یہ سسٹم تیز رفتاری، سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنے اور غلط سمت میں ڈرائیونگ جیسی خلاف ورزیوں کی فوری نشاندہی کر کے حکام کو مطلع کرے گا جس پر خودکار چالان جاری ہوں گے۔ یہاں صرف طے کردہ فاصلہ کی بنیاد پر ٹول وصول کیا جائے گا۔ ہر 5 کلومیٹر پر ایمرجنسی میڈین اوپننگ دی گئی ہے تاکہ حادثات کی صورت میں ٹریفک کو فوری موڑا جا سکے۔ ہر 30 کلومیٹر پر ایمبولینس، ٹوینگ گاڑیاں اور این ایچ اے آئی کی ہیلپ لائن (1033) دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ ہر 2 کلومیٹر پر 360 ڈگری سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ میگا پروجیکٹ نہ صرف ایندھن اور وقت کی بچت کرے گا بلکہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں تجارت، لاجسٹکس اور سیاحت کوایک نئی بلندی عطاکرےگا۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande