
نئی دہلی،28فروری(ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے مشترکہ فوجی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس حملے کو مغربی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے گئے مشترکہ فوجی حملے ایران کی قومی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے وقت میں جب یہ خطہ پہلے ہی سے عدم استحکام اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے، یہ فوجی کارروائی کشیدگی میں مزید اضافہ اور عام شہریوں کی مشکلات کا سبب بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام یا سلامتی سے متعلق تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے نہ کہ میزائلوں اور جنگی جہازوں کے ذریعے۔ جارحیت کا یہ راستہ عالمی قانون کو کمزور کرتا ہے اور امن اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ خطے میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیاں مغربی ایشیا کو غیر مستحکم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا ہے جس سے ایک بڑی جنگ بھڑکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس جنگ کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے تہران اور دیگر علاقوں میں دھماکوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس حملےسے خطے کے ممالک میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کی جنگوں نے ماضی میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں، معاشی تباہی اور عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کو روکنے اور تمام فریقوں کو فوری جنگ بندی کی طرف لانے کے لیے مو¿ثر کردار ادا کرے۔امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ بھارت کو اپنی تاریخی غیر وابستگی، خودمختاری اور تنازعات کے پ±رامن حل کے اصولی مو¿قف کے حوالے سے ایک آزاد اور باوقار موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام عالمی فورمز پر تحمل، جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے آواز بلند کرے۔ انہوں نے مسلم ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اتحاد، حکمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ یہ بحران ایک وسیع تر تصادم میں تبدیل نہ ہو۔ جماعت اسلامی ہند نے جنگ، غیر قانونی قبضے اور ناانصافی کے خلاف اپنے اصولی مو¿قف کو دہراتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن فوجی طاقت کے بجائے انصاف، باہمی احترام اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais