
تمام اضلاع میں اضافی پولیس دستے تعینات، نظم و نسق کو سختی سے نافذ کیا جائے گاپٹنہ، 28 فروری(ہ س)۔رنگوں کے تہوار ہولی پر کسی قسم کی شرانگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ پوری ریاست کے تمام بڑے شہروں اور چوراہوں پر اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ محکمہ پولیس شرانگیزوں کے خلاف خصوصی کارروائی کرے گا، خاص طور پر بائیکر گینگ، اسٹریٹ ریسرز، یا ہولی کے نام پر امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ اس مقصد کے لیے تمام اضلاع میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ڈی جی پی مسٹر ونے کمار نے تمام ایس پی کو ہدایت دی ہے کہ ہولی کے دوران کسی بھی ممکنہ گڑبڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ تمام تھانوں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں تمام حساس علاقوں کی نشاندہی کریں اور وہاں اضافی چوکسی برقرار رکھیں۔ اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ ہر ضلع میں کنٹرول روم بنائے گئے ہیں اور انہیں ہر دو گھنٹے بعد چیک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی بھی واقعے کی اطلاع فوری طور پر ڈی جی پی کنٹرول روم کو دینے کو کہا گیا ہے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (لا اینڈ آرڈر) پنکج کمار دراڈ نے تمام اضلاع کے ایس پی کو سخت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ ملی جلی آبادی والے علاقوں، مذہبی مقامات اور حساس مقامات پر مناسب فورس اور مجسٹریٹ تعینات کیے جائیں۔ ایسے مقامات جہاں حالیہ برسوں میں ہولی یا دیگر تہواروں کے دوران کشیدگی یا واقعات پیش آئے ہیں ان کی خاص طور پر نشاندہی کی جانی چاہیے۔ موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر ضروری کارروائی کی جائے۔گزشتہ تین برسوں میں پیش آنے والے واقعات کا جائزہ لے کر حکمت عملی تیار کریں۔گزشتہ تین برسوں میں ہولی کے دوران پیش آنے والے واقعات کا مکمل جائزہ لے کر زیر التواء کاموں کو فوری طور پر مکمل کریں۔ کئی بار ہولی کی آڑ میں پرانی دشمنیوں اور زمینی تنازعات سے متعلق سنگین مجرمانہ واقعات کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے تمام کیسز کا پولیس اسٹیشن کی سطح پر مکمل جائزہ لیا جائے اور ایک مخصوص حکمت عملی تیار کی جائے۔ ہولی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ باہر سے واپس آتے ہیں اور زمینی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے تنازعات اور پرتشدد جھڑپیں ہو سکتی ہیں۔ ایسے تمام معاملات کی نگرانی کا حکم دیا گیا ہے۔ ہولی کے موقع پر کسی بھی واقعے کو ہلکے سے نہیں لیا جانا چاہیے، خاص طور پر فرقوں کے درمیان ہونے والے واقعات، اور ان کے حل کے لیے مناسب قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔سی سی اے اور دفعہ 170 کے تحت کارروائی کریں:پولیس ہیڈ کوارٹر سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق جہاں فرقہ وارانہ واقعہ یا باہمی جھگڑوں سے متعلق کوئی واقعہ پیش آنے کا امکان ہو وہاں شرارتی یا سماج دشمن عناصر کے خلاف دفعہ 126 اور بی این ایس ایس کے تحت دونوں طرف سے غیر جانبداری سے احتیاطی کارروائی کی جائے۔ ضرورت پڑنے پر ایسے عناصر کے خلاف سی سی اے (کرائم اینڈ کریمنل پروسیجر کوڈ) کی دفعہ 3 اور بی این ایس ایس کی دفعہ 170 کے تحت بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ دفعہ 135 بی این ایس ایس کے تحت بانڈبھروایا جائے اور اس بانڈ کی تصدیق سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے دفتر سے ہونی چاہئے۔انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع میں خصوصی چوکسی:اس تہوار کے دوران انتہا پسندی سے متاثرہ اضلاع میں خصوصی چوکسی کی ضرورت ہے۔ شدت پسند تنظیموں کی جانب سے پولیس پکٹس، تھانوں، اداروں، جیلوں، ریلوے سیکشنز، ریلوے اداروں اور سرکاری اداروں میں تخریبی کارروائیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے پیش نظر ان مقامات پر خصوصی چوکسی برقرار رکھی جائے۔ ان مقامات پر گشت کے دوران خاص طور پر چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔اگر، کسی وجہ سے، کوئی واقعہ، خاص طور پر کوئی فرقہ وارانہ واقعہ، تہوار کے دوران پیش آتا ہے، ضلع کے سینئر افسران ذاتی طور پر جلد از جلد جائے وقوعہ پر پہنچیں ۔ مذہبی تنظیموں اور مذہب کے نام پر افواہیں، نفرت اور غلط فہمی پھیلانے والوں کی نشاندہی کی جائے اور قانونی کارروائی کریں۔ ذاتی طور پر ضلع میں پہلے سے تشکیل دیے گئے اینٹی رائٹ اسکواڈ کا ایس پی آڈٹ کریں۔ بنیاد پرست اور فرقہ پرست عناصر کی نشاندہی کریں اور ان کے خلاف کارروائی کریں۔ حساس علاقوں کے حوالے سے بھی انٹیلی جنس جمع کی جائے۔ فرقہ وارانہ واقعات میں ملوث مشتبہ افراد کے موبائل فون کو نگرانی میں رکھیں۔ تھانو میں تعینات چوکیدار وں کا استعمال فرقہ وارانہ واقعات سے متعلق خفیہ معلومات جمع کر نے میں کیا جائے ۔پولیس ہیڈ کوارٹرز نے ٹرینوں میں منشیات فروشی کرنے والے گروہوں کے خلاف خاص طور پر چوکس رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے تحت ہولی کے کے موقعہ پر باہر سے والے لوگوں، خاص طور پر تارکین وطن مزدوروں کو منشیات اور لوٹنے کے واقعات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan