
کسان بہبود کے نام پر تشہیر نہیں، زمین پر جواب دیں وزیر اعلیٰ : جیتو پٹواری
بھوپال، 28 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کی جانب سے سال 27-2026 کے بجٹ کو ’’کسان کلیان‘‘ (کسان بہبود) کا بجٹ بتائے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان داتا (کسانوں) کے تئیں لگن کے دعوے کرنے سے کھیتوں کی بدحالی چھپائی نہیں جا سکتی۔ حکومت ’’کھیتوں کو بااختیار بنانے‘‘ کی بات کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا کسان گھٹتی ہوئی حقیقی آمدنی، بڑھتی ہوئی لاگت، فصل کے خطرات اور قرض کے بوجھ سے پریشان ہے۔
جیتو پٹواری نے ہفتہ کو بیان جاری کر کے کہا کہ زرعی ترقی کے سرکاری دعوے تب کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں، جب کسانوں کی خالص آمدنی لاگت کے تناسب سے نہیں بڑھتی۔ ڈیزل، کھاد، بیج، کیڑے مار ادویات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، لیکن امدادی قیمت پر مکمل اور وقت پر خریداری اب بھی یقینی نہیں ہو پا رہی ہے۔ فصل کٹنے کے بعد ادائیگی میں تاخیر، گوداموں کی کمی اور بازار میں مناسب قیمت نہ ملنا کسانوں کو ساہوکاروں اور بینکوں کے قرض پر منحصر ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے وعدے سے حکومت پیچھے ہٹ چکی ہے اور اب صرف اعداد و شمار کی بازیگری سے گمراہ کیا جا رہا ہے۔
ریاستی کانگریس صدر نے دسمبر 2023 سے جنوری 2026 کے درمیان کسانوں اور زرعی مزدوروں کی خودکشی کے معاملات پر حکومت سے واضح جواب طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹس اس بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں ریاستی حکومت کو بتانا چاہیے کہ بحران زدہ خاندانوں کی بحالی، قرض سے راحت اور ذہنی صحت کی مدد کے لیے کیا ٹھوس قدم اٹھائے گئے ہیں۔
پٹواری نے کہا کہ ریاست کے کئی حصوں، خاص طور پر اجین اور اندور ڈویژن میں زمین کے حصول اور ایکسپریس وے پروجیکٹس کے خلاف کسانوں کے احتجاجی مظاہرے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ترقیاتی اسکیمیں کسانوں کی رضامندی، مناسب معاوضے اور بحالی کی ضمانت کے بغیر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن اضلاع میں کسانوں کی زمین حاصل کی گئی ہے، وہاں معاوضے کی پالیسی، ادائیگی کی صورتحال اور بحالی اسکیم کی مکمل تفصیلات عام کی جائیں۔
ریاست میں غیر معمولی بارش، ژالہ باری اور خشک سالی سے متاثرہ اضلاع کا ذکر کرتے ہوئے پٹواری نے پوچھا کہ بجٹ میں قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے کتنی رقم مقرر کی گئی ہے اور کتنے کسانوں کو حقیقی معاوضہ ملا ہے۔ انہوں نے فصل انشورنس اسکیم میں شفافیت، انشورنس کے دعووں کے بروقت تصفیے اور نجی انشورنس کمپنیوں کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
جیتو پٹواری نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت ہر ضلع کے لیے سال 26-2025 اور 27-2026 کے حقیقی فصل کے نقصان کے اعداد و شمار عام کرے، مقروض کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرے اور خودکشی اور قرض کے بوجھ کی شکایات کی تفتیش کے لیے ایک آزاد اور شفاف کمیٹی تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ کسان محض ووٹ بینک نہیں ہیں، وہ ریاست کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے یہ بھی کہا کہ اگر بجٹ واقعی ’’کسان کلیان‘‘ کے لیے ہے تو حکومت کو اشتہاری مہم نہیں، بلکہ کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت، آبپاشی کی توسیع، صفر سود پر زرعی قرض، بروقت ادائیگی اور آفت سے راحت کا موثر نظام نافذ کرنا چاہیے۔ کانگریس ان داتا کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری پلیٹ فارم پر جدوجہد جاری رکھے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن