
نئی دہلی، 28 فروری (ہ س)۔ مغربی بنگال کے فرکا میں دریائے گنگا پر بننے والا نیا چار لین پل اب تقریباً تیار ہے اور لوگوں کو دہائیوں سے جاری ٹریفک جام کے مسئلے سے جلد ہی نجات مل جائے گی۔ 5.468 کلومیٹر طویل اس پل پر 96فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسے 622.04 کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا جا رہا ہے۔
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی مرکزی وزارت نے بتایاکہ 1960 کی دہائی میں بنایا گیا فرکا بیراج اب تقریباً 70 سال پرانا ہو چکا ہے اور مالدہ، مرشد آباد اور شمالی بنگال کو جوڑنے والے بھاری گاڑیوں کے ٹریفک کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔ روزانہ سفر کرنے والے اساتذہ اور طلبا گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہنے کی اطلاع دیتے ہیں۔ نئے پل سے یہ مسئلہ ختم ہو جائے گا اور لوگوں کا قیمتی وقت بچ جائے گا۔
یہ پل نہ صرف ٹریفک میں سہولت فراہم کرے گا بلکہ شمالی اور جنوبی بنگال کے درمیان مال اور زرعی مصنوعات کی نقل و حرکت میں بھی سہولت فراہم کرے گا۔ مالدہ اور مرشد آباد کے مشہور آم اور لیچی اب ملک اور بیرون ملک تازہ اور بروقت دستیاب ہوں گے۔
اس پل کو لے کر مقامی لوگ بھی پرجوش ہیں۔ فرکا کی رہائشی نفیسہ نے کہا کہ ٹریفک جام امتحانات اور طبی ایمرجنسی کے دوران خاصی پریشانی کا باعث بنتا ہے اور نیا پل اس پریشانی کو دور کر دے گا۔ لاجسٹک بزنس مین آصف حسین نے کہا کہ پل سے کاروبار کو فروغ ملے گا، ٹرپ روٹیشن میں اضافہ ہوگا اور منافع میں اضافہ ہوگا۔
یہ پل سیاحت کے لیے بھی اہم ہو گا، جو شمالی بنگال کے بڑے سیاحتی مقامات بشمول کولک برڈ سینکچری، گور مالدہ اور آدینا مسجد کے ساتھ ساتھ دارجلنگ، کرسیونگ، کلمپونگ، اور سکم جیسے پہاڑی مقامات تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد