
حیدرآباد، 28 فروری(ہ س)۔ آندھراپردیش کے ضلع مشرقی گوداوری کے شہرنداووُلومیں بلدیہ کے کونسل اجلاس کے دوران اس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک کونسلراحتجاجاً اپنے ساتھ ڈبہ میں بندایک ناگ لے کراجلاس میں پہنچ گیا۔20 ویں وارڈ کے وائی ایس آرکانگریس کے کونسلرانیل کمارجب کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے توان کے ہاتھ میں ایک ڈبہ تھا جس میں ایک زہریلا ناگ موجود تھا۔ جیسے ہی دیگراراکین اورحکام کواس بات کاعلم ہوا ہال میں خوف وہراس پھیل گیا۔کونسلرانیل کمارنے اس انوکھے احتجاج کی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ ان کے وارڈ میں سانپوں کی بھرمارہے اورعوام ان کے خوف سے سہمے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کئی بارمتعلقہ حکام اورمیونسپل عملہ سے اس مسئلہ کو حل کرنے اورجھاڑیوں کی صفائی کی درخواست کی لیکن کسی نے کان نہیں دھرا۔حکام کی اسی لاپرواہی اورسرد مہری کے خلاف احتجاج درج کرانے کے لے وہ زندہ سانپ لے کراجلاس میں آئے۔ کونسل کے چیئرمین آدتیہ نارائنانے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کونسلرسے درخواست کی کہ وہ سانپ کو فوری طور پر باہرلے جائیں۔ چیئرمین کی یقین دہانی کے بعدانیل کمارنے سانپ کومحفوظ مقام پرچھوڑااوردوبارہ اجلاس میں شرکت کی۔ بعد ازاں میونسپل چیئرمین نے حکام کو سخت احکامات جاری کیے کہ وارڈ نمبر 20 میں سانپوں کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر صفائی مہم شروع کی جائے اور خصوصی اقدامات کئے جائیں۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق