مراٹھی وشوکوش (انسائیکلو پیڈیا) میں 1857 کو اٹھاو (بغاوت) لکھنے پر شدید ردِعمل، ترمیم کے لیے مقننہ کو عرضداشت
مراٹھی وشوکوش (انسائیکلو پیڈیا) میں 1857 کو اٹھاو (بغاوت) لکھنے پر شدید ردِعمل، ترمیم کے لیے مقننہ کو عرضداشتناگپور، 28 فروری (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت کے شائع کردہ مراٹھی وشوکوش (انسائیکلو پیڈیا) میں 1857 کی جدوجہد آزادی کو '' اٹھاو'' ’(بغاوت) ق
CULTURE MAHA 1857 CONTROVERSY


مراٹھی وشوکوش (انسائیکلو پیڈیا) میں 1857 کو اٹھاو (بغاوت) لکھنے پر شدید ردِعمل، ترمیم کے لیے مقننہ کو عرضداشتناگپور، 28 فروری (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت کے شائع کردہ مراٹھی وشوکوش (انسائیکلو پیڈیا) میں 1857 کی جدوجہد آزادی کو ' اٹھاو' ’(بغاوت) قرار دینے پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور اس حوالے سے ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی مقننہ کے صدور کو ایک عرضداشت پیش کی گئی ہے۔ صحافت، ادب، ثقافتی اور سماجی شعبوں سے وابستہ معزز شخصیات نے اس اقدام کو مجاہدینِ آزادی کی توہین قرار دیا ہے۔عرضداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ 1857 کی جدوجہد محض کوئی ' اٹھاو یا بنڈ ' ( بغاوت یا شورش) نہیں تھی بلکہ ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑی گئی پہلی مسلح جنگ تھی۔ اس ضمن میں وینائک دامودر ساورکر کی تصنیف ’’1857 کا سوراجیہ سمر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے تاریخی موقف کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ 'مراٹھی وشوکوش' کے جلد اول اور جلد 18 میں اس واقعہ کو ’’اٹھارہ سو ستاون کی بغاوت‘‘ لکھا گیا ہے اور کہیں اسے بغاوت تو کہیں جنگِ آزادی کہا گیا ہے، مگر عرضداشت گزاروں کے مطابق یہ مبہم انداز تاریخ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔مزید یہ کہ رانی لکشمی بائی، نانا صاحب اور تانتیا ٹوپے جیسے مجاہدینِ آزادی کا یک لفظی ذکر کرنے پر بھی سخت اعتراض کیا گیا ہے۔ عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والے ان عظیم سپاہیوں کا احترام کے ساتھ تذکرہ ہونا چاہیے۔ جھانسی کی رانی کی قربانی اور تاتیا ٹوپے کی پھانسی تاریخ کا ناقابلِ تردید حصہ ہے، جب کہ وسنت ورکھیکر کے ناول ’’ستاون کا سینانی‘‘ میں بھی ان کی شجاعت کا ذکر موجود ہے۔یہ عرضداشت ناگپور کے سینئر صحافی اویناش پاٹھک کی قیادت میں اسمبلی کے اسپیکر راہل نارویکر اور قانون ساز کونسل کے چیئرمین رام شندے کو پیش کی گئی۔ اس پر اویناش پاٹھک، ونود دیشمکھ، شروتی دیشپانڈے، مہیش آمبوکر، وجئے آڑے، چارودت کہو، ادے اندھارے، سنجے لوکھنڈے، دیپک دیشپانڈے، کارتک لوکھنڈے، اروند مراٹھے، میجر جنرل اچیوت دیو، سریش ونچورکر، سنیل کٹکرو، نتین کیلکر، ایڈوکیٹ لکھن سنگھ کٹرے اور ششیکانت سرنگلیکر سمیت متعدد افراد کے دستخط ہیں۔اس معاملے کی سنجیدگی کے پیشِ نظر عرضداشت کی نقول وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزرائے اعلیٰ سنیترا پوار اور ایکناتھ شندے اور مراٹھی زبان کے وزیر ادے سامنت کو بھی روانہ کی گئی ہیں، جب کہ متعلقہ صفحات کی نقول بھی ساتھ منسلک کی گئی ہیں۔ عرضداشت گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تاریخ کا مفہوم بدلنا قومی خودداری کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ جلدوں اور ویب سائٹ پر فوری ترمیم کرتے ہوئے 1857 کی لڑائی کو واضح طور پر ’’جنگِ آزادی‘‘ لکھا جائے اور مجاہدینِ آزادی کا احترام کے ساتھ ذکر کیا جائے۔ اب اس معاملے پر ریاستی حکومت اور مقننہ کیا موقف اختیار کرتی ہے اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ہندوستھان سماچار--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande