سورت کی کمپنی میں تشدد کے بعد سیکورٹی سخت، ہزیرہ علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل، کومبنگ آپریشن جاری
سورت، 27 فروری (ہ س)۔ سورت کے ہزیرہ میں اے ایم/این ایس کمپنی میں جمعرات کو ہونے والے پرتشدد واقعے کے بعد جمعہ کی صبح سے ہی پورا ہزیرہ علاقہ پولیس چھاو¿نی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایل اینڈ ٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کے ذریعہ کئے گئے پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے
Surat-Tight-police-arrangements-after-violence


سورت، 27 فروری (ہ س)۔ سورت کے ہزیرہ میں اے ایم/این ایس کمپنی میں جمعرات کو ہونے والے پرتشدد واقعے کے بعد جمعہ کی صبح سے ہی پورا ہزیرہ علاقہ پولیس چھاو¿نی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ایل اینڈ ٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کے ذریعہ کئے گئے پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے پولیس پوری طرح مستعد ہے۔ تمام صنعتی یونٹس میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیںاور اعلیٰ پولیس افسران کی قیادت میں سخت کومبنگ آپریشنز جاری ہیں۔

پھر جمع ہوئے ملازمین کو پولیس نے فوراً منتشر کیا

جمعرات کے واقعے کے اثرات جمعہ کی صبح بھی محسوس کیے گئے۔ پولیس کے مطابق، ایل اینڈ ٹی کے 50 سے زائد کنٹریکٹ ورکرز دوبارہ جمع ہوگئے۔ تاہم وہاں تعینات پولیس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے سب کو ہٹا کر صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

سوشل میڈیا پر پولیس کی 'ڈیجیٹل' نظر

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تشدد بھڑکانے میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار رہاہے۔ ہریانہ کے پانی پت میں ہوئی مزدور تحریک کی ویڈیو واٹس ایپ اور ٹیلی گرام گروپس میں وائرل کر کے مزدوروں کو مشتعل کیا گیا۔ کچھ پیغامات میں پولیس کو نشانہ بنانے کی بات بھی سامنے آئی ہے ۔ فی الحال سائبر سیل انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کی سخت نگرانی کر رہی ہے۔

چالیس سے زائد کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج

جمعرات کو ہوئے پتھراؤ میں ڈی سی پی شیفالی بروال سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس نے اب تک 40 سے زائد فسادیوں کے خلاف قتل کی کوشش سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے ہیں۔ دیگر نامعلوم افراد کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل فون لوکیشنز کا استعمال کرتے ہوئے تفتیش کو تیز کیا جا رہا ہے۔

افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی: ڈی سی پی

ڈی سی پی شیفالی بروال نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیل رہی افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ فعال ہے اور اشتعال انگیز پوسٹس یا افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ہزیرہ کے پورے علاقے میں پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande