
نئی دہلی، 27فروری(ہ س)۔عام آدمی پارٹی نے دہلی شراب گھوٹالہ معاملے میں اروند کیجریوال کی بریت کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت پوری بی جے پی سے ملک سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ آپ کے سینئر لیڈر اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ پی ایم مودی اور بی جے پی کی اروند کیجریوال کو بدنام کرنے کی سازش ناکام ہو گئی ہے، اب انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ عدالت نے ہمارے رہنما¶ں کو بری کر کے ثابت کر دیا کہ ملک کی اقتدار پر ایک خطرناک سازشی حکمران راج کر رہا ہے۔ تباہ کن سوچ رکھنے والے مودی جی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو اروند کیجریوال کے بنائے شاندار اسکولوں اور اسپتالوں سمیت دیگر کام برداشت نہیں ہوئے، اسی لیے عام آدمی پارٹی کی شبیہ خراب کرنے کے لیے گہری سازش رچی گئی۔سنجے سنگھ نے کہا کہ آج عدالت کا ایک بہت بڑا فیصلہ آیا ہے، جس میں عام آدمی پارٹی کے رہنما¶ں کو مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ اروند کیجریوال، منیش سسودیا سمیت دیگر آپ لیڈروں پر شراب پالیسی کے تحت جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا تھا، جس میں سب کو بری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ ملک کی اقتدار پر ایک خطرناک، سازشی اور آمرانہ ذہنیت رکھنے والا شخص حکمرانی کر رہا ہے، جس کا نام نریندر مودی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے مقبول اور ایماندار وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور باصلاحیت و ایماندار وزیر تعلیم منیش سسودیا کی شبیہ خراب کرنے کے لیے گہری سازش رچی۔ عام آدمی پارٹی کے رہنماوں کو جیل میں ڈالا گیا، انہیں اذیتیں دی گئیں اور ان کے خاندانوں اور حامیوں کو تکلیف پہنچائی گئی۔ مودی جی نے ملک کی ابھرتی ہوئی ایماندار پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔سنجے سنگھ نے وزیر اعظم سے کہا کہ اگر ان میں ذرا سی بھی شرم باقی ہے تو وہ پورے ملک سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مودی جی سے یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ دہلی میں اسکول اور اسپتال کیسے بہتر ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کی اور ان کے وزیر داخلہ امت شاہ کی سوچ تخریبی ہے۔ آج اس سوچ کا پردہ فاش ہو گیا ہے اور وزیر اعظم ملک کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے رہنماوں کو آج بڑی راحت ملی ہے۔ ہمارے خاندان کے افراد خوشی سے آبدیدہ ہیں اور ایک ایسا شخص، جس کی ایمانداری پر وزیر اعظم نے حملہ کیا، وہ اروند کیجریوال بھی عدالت کے فیصلے کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور خوشی سے رو پڑے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم کو اس بات سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی؟ ان کی پوری توانائی دن رات اسی قسم کی سازشوں میں صرف ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بار بار ہاتھ جوڑ کر کہتے رہے کہ اروند کیجریوال کے خلاف ایک بھی ثبوت پیش کیا جائے۔ منیش سسودیا کے خلاف کوئی رقم، پلاٹ یا زیور ملا ہو تو دکھایا جائے، مگر ہماری بات نہیں سنی گئی۔ ہمیں بدنام کیا گیا، ہزاروں ٹی وی شوز اور مباحثے ہوئے جن میں بی جے پی کے ترجمان آپ کو چیخ چیخ کر بدنام کرتے رہے۔ وزیر اعظم نے اپنی ایجنسیوں کو کٹھ پتلی بنا رکھا ہے اور سی بی آئی و ای ڈی کے ذریعے دن رات فرضی مقدمات درج کرواتے ہیں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور عام آدمی پارٹی اس آمریت کے خلاف پہلے بھی چٹان کی طرح کھڑے تھے اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔ نریندر مودی اور امت شاہ کان کھول کر سن لیں کہ وہ اس ملک کو برباد نہیں کر سکتے اور انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت کے فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ اس طرح کی سازشیں اور گھناونے کھیل زیادہ دیر تک نہیں چلتے۔سنجے سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عدالت نے ہمارے رہنما¶ں کو بری کر دیا ہے اور یہ ثابت ہو گیا کہ ملک کی اقتدار پر ایک خطرناک سازشی حکمران قابض ہے، جس نے سازش رچ کر ملک کے مقبول و ایماندار وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، باصلاحیت وزیر تعلیم منیش سسودیا اور بہترین ایماندار پارٹی عام آدمی پارٹی کو بدنام کیا، ہمارے رہنما¶ں کو جیل میں اذیتیں دیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی ملک سے معافی مانگیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais