
حیدرآباد ، 27 فروری (ہ س)۔ وزیراعلی اے ریونت ریڈی نے ہدایت جاری کی کہ خانگی اسکولس اگرقوانین سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں توان کے اجازت نامے منسوخ کئے جائیں اورجواضافی رقومات وصول کی گئی ہیں ان کوواپس حاصل کیاجائے۔محکمہ تعلیم پرایک جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے وزیراعلی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ایک ویب سائیٹ پراس کی گنجائش فراہم کریں جہاں لوگ خانگی اسکولس میں فیس کے ڈھانچہ کوباقاعدہ بنانے اپنی تجاویزاورسفارشات پیش کرسکیں۔ واضح رہے کہ ریاست میں محکمہ تعلیم کا قلمدان خودوزیراعلی کے پاس ہے ۔ ریاست بھرمیں اولیائے طلباء کی جانب سے مسلسل شکایت کی جا رہی ہے کہ خانگی اسکولس کی جانب سے من مانی فیس وصول کی جا رہی ہے اور اس کو باقاعدہ بنائے جانے کی ضرورت ہے ۔اولیائے طلباء کا اصرار تھا کہ اس معاملے میں ریاستی حکومت مداخلت کرے اورعوام کو بھاری فیس وصولی سے راحت فراہم کی جائے۔تقریباایک ماہ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن نے ایک بل کی تجویزپیش کی ہے تاکہ خانگی تعلیمی شعبہ میں فیس کو باقاعدہ بنایاجاسکے۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک خاص کمیشن اس مقصد کیلئے بنایا جائے ۔ تعلیمی پالیسی وزیراعلی کوپیش کی گئی تھی۔مارچ 2025 میں وزیرصحت دامودر راج نرسمہا نے اسمبلی میں کہاتھا کہ حکومت سے ایک فیس ریگولیٹری کمیٹی مقررکی جائے گی جوخانگی اسکولس میں فیس کے معاملے کی نگرانی کرے گی ۔ کمیٹی نے اپنی تجاویز آج وزیراعلی کو پیش کردیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق