
حیدرآباد ، 27 فروری (ہ س)۔ گورنمنٹ پرائمری اسکول اردو میڈیم پنجہ شاہ، نرمل کے 20 طلبہ کو مبینہ طورپرراتوں رات ڈراپ باکس میں منتقل کرکے اسکول کوغیرفعال(بند)قرار دینے کے سنگین معاملہ میں محکمہ تعلیم نے بڑی کارروائی کی ہے۔اس سلسلہ میں ریجنل جوائنٹ ڈائریکٹر،ورنگل نے نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر ناگیشورراؤ کوعہدہ سے ہٹا دیا ہے۔قبل ازیں اس معاملہ پر تلنگانہ اسٹیٹ پرائمری ٹیچرز اسوسی ایشن (ٹی ایس پی ٹی اے)اورمائناریٹی ایمپلائز ویلفیئراسوسی (میوا) کی جانب سے ضلع مہتمم تعلیمات،ریجنل جوائنٹ ڈائریکٹرورنگل،ڈائریکٹرآف اسکول ایجوکیشن اور پرنسپل سیکریٹری محکمہ تعلیم کوباضابطہ شکایت پیش کی گئی تھی ۔شکایت میں الزام عائدکیاگیا تھاکہ 20 معصوم اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو دانستہ طورپرمتاثرکرنے کی کوشش کی گئی ہے۔شکایت پرابتدائی جانچ کے بعد ریجنل جوائنٹ ڈائریکٹر ورنگل نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ناگیشور راؤ کو عہدہ سے ہٹا دیا اور ایس۔ پدما، ہیڈمسٹریس زیڈ پی ایچ ایس منجلہ پور کو نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر مقرر کرنے کے احکامات جاری کئے۔ادھر معاملہ کی سنگینی کے پیش نظر مذکورہ تنظیموں نے ریاستی حقوق کمیشن میں بھی عرضی داخل کی، جبکہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے اردو اورانگریزی اخبارات میں شائع شدہ خبروں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ ٹی ایس پی ٹی اے اور میوا کے صدر شیخ شبیرعلی نے اپنے بیان میں کہا کہ صرف عہدہ سے ہٹانا کافی نہیں، بلکہ 20 غریب اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کرنے کے ذمہ دارعہدیدار کے خلاف معطلی یا خدمات سے برطرفی جیسی سخت تادیبی کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ محکمہ تعلیم میں مبینہ متعصب رویہ رکھنے والے عہدیداروں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، بصورت دیگر تنظیمیں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق