
بھوپال، 27 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے 10ویں دن جمعہ کو وزیر شہری انتظامیہ کیلاش وجے ورگیہ نے ایوان میں غیر قانونی کالونیوں کے مسئلے پر سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کالونیوں پر پابندی لگانے کے لیے تین ماہ میں سخت قانون نافذ کیا جائے گا۔ اس کا مقصد غیر قانونی کالونیوں کی تعمیر کو روکنا ہے۔
مدھیہ پردیش اسمبلی میں جمعہ کو سیدھی سے بی جے پی رکن اسمبلی ریتی پاٹھک نے غیر قانونی کالونیوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سیدھی میونسپلٹی علاقے میں گزشتہ تین برسوں میں بغیر ریرا رجسٹریشن کے کئی غیر قانونی کالونیوں کی تعمیر ہو رہی ہے۔ حکومت ان پر روک لگانے کے لیے کیا قدم اٹھا رہی ہے؟ اس کے جواب میں وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ جو غیر قانونی کالونیاں قانونی کی جا سکتی ہیں، انہیں قانونی کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور جو کالونیاں قانونی نہیں ہو سکتیں، ان کے سلسلے میں بھی حکومتی سطح پر غور کیا جا رہا ہے اور ضروری فیصلہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کالونیاں بنانے والے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر قانونی کارروائی ہوگی۔
کانگریس رکن اسمبلی اور سابق وزیر جے وردھن سنگھ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی سرپرستی میں غیر قانونی کالونیاں اور بلڈر مسلسل غیر قانونی کالونیوں کی توسیع کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس پر موثر کارروائی نہیں ہو رہی ہے، جس سے غیر قانونی تعمیرات کو فروغ مل رہا ہے۔ اسے لے کر سیدھی کی رکن اسمبلی ریتی پاٹھک نے بھی ایوان میں سوال کیا۔ اس کے جواب میں وزیر شہری انتظامیہ کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ غیر قانونی کالونیوں پر روک لگانے کے لیے تین مہینے کے اندر سخت قانون نافذ کیا جائے گا۔ اس کا مقصد غیر قانونی کالونیوں کی تعمیر کو روکنا ہے۔ کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ غیر قانونی کالونیاں بنانے والے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
رکن اسمبلی ریتی پاٹھک کے شہر کے ترقیاتی کاموں میں ہو رہی تاخیر کو لے کر پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر وجے ورگیہ نے کہا کہ حکومت نے سیدھی کے پرانے بس اسٹینڈ کو گرا کر نیا شاپنگ کمپلیکس بنانے کے لیے تقریباً 7 کروڑ روپے کی رقم پہلے ہی منظور کر دی تھی۔ ٹینڈر کے عمل میں وقت لگنے کی وجہ سے ابھی تک کام شروع نہیں ہو سکا ہے، لیکن اسے جلد ہی شروع کرنے کے لیے تمام ضروری قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شاپنگ کمپلیکس کی تعمیر کا کام اگلے کچھ مہینوں میں شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیور لائن تعمیراتی پروجیکٹ کی سیدھی میونسپلٹی علاقے کے لیے طویل عرصے سے مانگ کی جا رہی ہے۔ سیور لائن تعمیراتی پروجیکٹ کی انتظامی منظوری جلد ہی جاری کر دی جائے گی۔ وجے ورگیہ نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ شہر کے باشندوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ رکن اسمبلی ریتی پاٹھک نے وزیر کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف شہر کی ترقی ہوگی، بلکہ غیر قانونی کالونیوں کے مسئلے پر بھی سخت قدم اٹھائے جانے سے شہریوں کو راحت ملے گی۔
اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ساگر سے بی جے پی رکن اسمبلی شیلیندر جین نے پائپ لائن کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پائپ لائن کی حالت خراب ہونے سے ساگر میں اندور جیسا واقعہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 395 کلومیٹر پائپ لائن میں سے 46 کلومیٹر پرانی اور خستہ حال پائپ لائن ڈالی گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خستہ حال پائپ لائن کو جلد بدلا جائے۔
اس کے جواب میں وزیر شہری انتظامیہ کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ پہلے 260 کلومیٹر پائپ لائن کی تجویز تھی، لیکن 395 کلومیٹر پائپ لائن ڈالی گئی۔ جہاں ضرورت ہوگی، وہاں نئی پائپ لائن ڈالی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کو بااختیار بنایا جائے۔ رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی فنڈ کا استعمال بھی پائپ لائن کی بہتری کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ محکمہ آدھی رقم دینے کے لیے تیار ہے۔
ایوان میں یہ بھی بتایا گیا کہ پائپ لائن ڈالنے کے دوران سڑکوں کو کھودا گیا، لیکن ٹاٹا کمپنی کی جانب سے سڑکوں کی صحیح طریقے سے تعمیر نو نہیں کی گئی۔ وجے ورگیہ نے کہا کہ کئی جگہ پانی اور سیور کی لائن ایک ساتھ ڈالی گئی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ آئندہ سے پانی اور سیور کی لائن الگ الگ ڈالی جائیں۔
بڑوانی کے رکن اسمبلی راجن منڈلوئی نے اسمبلی میں کہا کہ شہر میں سیوریج لائن ڈالنے کی وجہ سے سڑکوں کو خراب کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی سی روڈ کی مشین سے کٹنگ کرنے کے بجائے جے سی بی سے کھدائی کی گئی، جس سے سڑکیں تباہ ہو گئیں۔ کھدائی کے بعد سڑکوں کی بحالی (ریسٹوریشن) صحیح طریقے سے نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس معاملے کی تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا، تاکہ اندور کے بھاگیرتھ پورہ جیسا واقعہ بڑوانی میں نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر سیوریج لائن اور پانی کی پائپ لائن ایک دوسرے کو کراس کر رہی ہیں۔ اس سے مستقبل میں حادثے اور آبی آلودگی کا خطرہ بنا ہوا ہے۔
اس پر وزیر شہری انتظامیہ کیلاش وجے ورگیہ نے کہا کہ کئی جگہ کنکریٹ سڑک ہونے کی وجہ سے کٹنگ میں دقت آتی ہے، اس لیے کھدائی کرنی پڑی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ خراب سڑکوں کی بحالی کرائی جائے گی۔ وجے ورگیہ نے بتایا کہ سیوریج پروجیکٹ میں 6000 چیمبر بنائے جانے ہیں، جن میں سے 4000 بن چکے ہیں۔ ان میں سے صرف 20 مین ہول ایسے پائے گئے ہیں، جہاں پانی اور سیوریج لائن کراس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سڑکیں تنگ ہیں، وہاں ٹریفک کا مسئلہ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں کلکٹر اور ایس پی سے بات چیت کر کے متبادل راستے کا انتظام کیا جائے گا، تاکہ کام کے دوران ٹریفک متاثر نہ ہو۔
پوہری کے رکن اسمبلی کیلاش کشواہا نے اسمبلی میں کار سٹی فیڈر کی 50 سال پرانی بجلی لائن کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس لائن میں 80 لوہے اور 85 سیمنٹ کے کھمبے لگے ہیں۔ یہ لائن پہلے 500 کنکشن کے لیے بچھائی گئی تھی، لیکن اب اس پر تقریباً ڈھائی ہزار کنکشن کا لوڈ ہے۔ لائن کے تار بھی 50 سال پرانے ہیں، جس سے بار بار بجلی کی سپلائی منقطع ہو رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ اس پرانی لائن اور تاروں کو کب تک بدلا جائے گا، کیونکہ اس سے جانی نقصان کا خطرہ بھی بنا ہوا ہے۔
اس پر وزیر توانائی پردیومن سنگھ تومر نے کہا کہ پرانی لائنوں کی وقتاً فوقتاً مینٹیننس (دیکھ بھال) کی جاتی ہے۔ اگر تاروں کی گنجائش کم پائی گئی، تو مانگ کے مطابق انہیں بدلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے کی تفتیش کرائی جائے گی۔ رکن اسمبلی کشواہا نے کہا کہ بیراڑ، پوہری اور دیگر گاؤوں میں کئی کسانوں کے ٹیوب ویل طویل عرصے سے بند ہیں۔ اس کے باوجود کسانوں کو بجلی کے بھاری بل دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بند کنکشنوں کے بل صفر کر کے مستقل طور پر کنکشن کاٹے جائیں۔ وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سمادھان (حل) اسکیم نافذ کی گئی ہے۔ کسان اس اسکیم کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر طویل عرصے سے بند پمپ کی معلومات دی جائے گی، تو اس کی تفتیش کر کے ازالہ کیا جائے گا۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ جن ٹرانسفارمروں پر زیادہ لوڈ ہے، ان کا سروے کرایا جائے اور ان کی گنجائش بڑھائی جائے۔ اس سے کسانوں کو بجلی سے متعلق مسائل سے راحت مل سکے گی۔
مناسا کے رکن اسمبلی انیرودھ مادھو مارو نے وزیر حیوانات سے پوچھا کہ جانوروں کی ٹریکنگ کے لیے کوئی ڈیوائس یا سسٹم دستیاب ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں کی شناخت اور ٹریکنگ کے لیے الگ نظام ہونا ضروری ہے۔ وزیر حیوانات لکھن پٹیل نے بتایا کہ محکمے نے گائے بیل کی گنتی کے لیے ایک ایپ تیار کی ہے۔ اس ایپ پر گوشالا چلانے والے روزانہ گائے بیل کی تعداد اپ لوڈ کرتے ہیں۔ ہر مہینے 7 سے 14 تاریخ کے درمیان متعلقہ علاقے کے ویٹرنری ڈاکٹر اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر کے ذریعے حتمی تصدیق کے بعد معلومات محکمے تک پہنچتی ہیں۔ اس کی بنیاد پر گوشالاؤں کو ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے ادائیگی کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو خط لکھ کر بے سہارا گائے بیل کے لیے الگ رنگ کا ٹیگ لگانے کی اجازت مانگی گئی تھی، جسے منظوری مل گئی ہے۔ اب پالتو اور بے سہارا گائے بیل کو الگ الگ رنگ کے ٹیگ سے نشان زد کیا جائے گا۔ وزیر پٹیل نے بتایا کہ گائے بیل کی ٹریکنگ کے لیے چپ سسٹم تیار کیا گیا ہے۔ اس سے گوشالاؤں میں موجود گائے بیل کی تعداد اور موجودگی خود بخود درج ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس چپ سسٹم کا مظاہرہ ہونا باقی ہے۔ مظاہرے کے بعد اسے نافذ کیا جائے گا، جس سے گائے بیل کی 100 فیصد موجودگی اور ٹریکنگ یقینی ہو سکے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن