مدھیہ پردیش اسمبلی بجٹ اجلاس: کانگریس رکن اسمبلی بابو جنڈیل نے سرکے بل کھڑے ہوکر احتجاج کیا، ایف آئی آر کی مخالفت میں اپوزیشن کا واک آوٹ
بھوپال، 27 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دسویں دن جمعہ کو اس وقت ہنگامے کی صورتحال پیدا ہو گئی، جب شیوپوری ضلع سے کانگریس رکن اسمبلی بابو جنڈیل پر درج ایف آئی آر کے مسئلے پر اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا۔ ہنگامے کے بعد کانگریس ار
مدھیہ پردیش اسمبلی (فائل فوٹو)


بھوپال، 27 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دسویں دن جمعہ کو اس وقت ہنگامے کی صورتحال پیدا ہو گئی، جب شیوپوری ضلع سے کانگریس رکن اسمبلی بابو جنڈیل پر درج ایف آئی آر کے مسئلے پر اپوزیشن نے زبردست احتجاج کیا۔ ہنگامے کے بعد کانگریس ارکان اسمبلی نے ایوان سے واک آوٹ کر دیا۔

ایوان کی کارروائی کے دوران وقفہ صفر میں کانگریس رکن اسمبلی پنکج اپادھیائے اور وہپ سوہن والمیکی نے شیو راتری کے دوران شیو بارات میں ہوئی ہوائی فائرنگ کے معاملے میں درج ایف آئی آر کا مسئلہ اٹھایا۔ اسپیکر کی جانب سے موضوع کو متعلقہ محکمے کو بھیجنے کی بات کہے جانے پر اپوزیشن غیر مطمئن نظر آئی اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئی۔

واک آوٹ کے بعد رکن اسمبلی بابو جنڈیل نے اسمبلی بھون کے احاطے میں گاندھی کے مجسمے کے سامنے شیرشاسن (سر کے بل کھڑے ہو کر یوگا آسن) کر کے احتجاج درج کرایا۔ ان کا یہ انوکھا احتجاج دن بھر بحث کا موضوع بنا رہا۔

بابو جنڈیل نے کہا کہ 15 فروری کو ان کے علاقے میں یگیہ اور شیو بارات کا انعقاد تھا، جس میں بڑی تعداد میں سادھو سنت اور برہمن شامل ہوئے تھے۔ ان کے مطابق، جلوس کے دوران لوگ پٹاخے پھوڑ رہے تھے اور انہوں نے بھی ’’چڑھی مار‘‘ کا ایک روایتی دعوت راونڈ چلایا۔ انہوں نے صفائی دیتے ہوئے کہا، ’’میرے پاس کوئی اے کے-47 نہیں تھی۔ میں کوئی عسکریت پسند نہیں ہوں، بلکہ یگیہ کا میزبان تھا۔ بغیر تفتیش کے میرے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی۔‘‘

جنڈیل نے الزام لگایا کہ اس سے پہلے بھی گایوں کے مسئلے پر تحریک چلانے پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک تقریباً 15 مقدمات میں ان کے خلاف کیس درج ہوئے، جن میں سے سات معاملات میں ہائی کورٹ سے انہیں راحت مل چکی ہے۔

انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر معاملہ واپس نہیں لیا گیا تو وہ گاندھی آشرم سے لے کر سڑک تک احتجاج کریں گے۔

اجلاس کے دوران کانگریس رکن اسمبلی اور سابق وزیر جے وردھن سنگھ نے ریاست میں غیر قانونی کالونیوں کی توسیع کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کی سرپرستی میں غیر قانونی تعمیرات کو فروغ مل رہا ہے اور موثر کارروائی نہیں ہو رہی۔ اس پر وزیر شہری انتظامیہ کیلاش وجے ورگیہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کالونیوں پر روک لگانے کے لیے تین مہینے کے اندر سخت قانون نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ غیر قانونی کالونیاں تیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

محکمہ سیاحت کے مطالباتِ زر (بجٹ) پر بحث کے دوران اپوزیشن نے حکومت کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ کانگریس رکن اسمبلی نتیندر سنگھ راٹھور نے لوک ثقافت، سیاحتی پروجیکٹس اور مندروں کے تحفظ کو لے کر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ راٹھور نے کہا کہ ریاست کی شاندار لوک ثقافت، لوک تہذیبوں اور لوک فنکاروں کے تحفظ اور فروغ کے لیے حکومت ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دیہی اور روایتی فنکاروں کو نہ تو خاطر خواہ پلیٹ فارم مل رہا ہے اور نہ ہی مالی تعاون۔ انہوں نے ریاست میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے حفاظتی انتظامات پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کو فروغ دینے کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن سیکورٹی کے لیے کوئی خصوصی اور مضبوط نظام وضع نہیں کیا گیا ہے۔ راٹھور نے کہا کہ مذہبی ٹرسٹ کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مشہور رام پتھ گمن پروجیکٹ اب تک مکمل نہیں ہو سکا ہے، جبکہ اب ریاست کو ’کرشن پاتھیے‘ کا نیا خواب دکھایا جا رہا ہے۔

رکن اسمبلی نے کہا کہ تاریخی مندروں کے تحفظ میں ماہرین کا مشورہ نہیں لیا جا رہا، جس سے ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے رام راجہ مندر (اورچھا) کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لاپرواہی کی وجہ سے مندر متاثر ہوا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے 2023 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے ذریعے رام راجہ مندر سے تارا مائی مندر تک روپ وے تعمیر کے اعلان کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ پروجیکٹ اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پروجیکٹ کو جلد شروع کیا جائے۔

ادھر، اسمبلی میں لیڈر حزب اختلاف امنگ سنگھار نے اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر کو خط سونپ کر لوک آیکت اور کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) کی رپورٹ پر ایوان میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سنگھار نے کہا کہ اب تک ان اہم رپورٹس پر اسمبلی میں تفصیلی بحث نہیں ہو سکی ہے۔ مفاد عامہ اور شفافیت کے لیے ان رپورٹس پر بحث ضروری ہے، تاکہ نظام حکومت اور انتظامیہ کی جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیاحتی بجٹ پر بحث کے دوران اٹھے ان مسائل سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں ایوان میں مذہبی پروجیکٹس، سیاحت کے فروغ اور جوابدہی کو لے کر بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande