جے این یو میں پرتشدد مظاہروں کے خلاف پولیس کی کارروائی، جے این یو ایس یو کے صدر سمیت 14 طلبا گرفتار
نئی دہلی، 27 فروری (ہ س)۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں جمعرات کو طلبہ یونین کی طرف سے وزارت تعلیم تک نکالے گئے مارچ کے بعد تنازعہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ طلبا تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ( آئیسا) اور جے این یو اسٹوڈنٹس یونین نے الز
JNU-protests-14-students-arres


نئی دہلی، 27 فروری (ہ س)۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں جمعرات کو طلبہ یونین کی طرف سے وزارت تعلیم تک نکالے گئے مارچ کے بعد تنازعہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔ طلبا تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ( آئیسا) اور جے این یو اسٹوڈنٹس یونین نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی پولیس نے پرامن احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال کیا اور 51 طلبہ کو حراست میں لے لیا۔

پولیس نے مقدمہ درج کر کے 14 طلبا کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان طلبہ میں طلبہ یونین کے صدر، نائب صدر، جوائنٹ سکریٹری، سابق صدر اور آئیسا کے آل انڈیا صدر شامل ہیں۔ طلبا نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کیمپس سے وسنت کنج پولیس اسٹیشن تک پیدل مارچ کیا۔

طلبا یونین کے مطابق، 26 فروری کو لانگ مارچ کئی مطالبات کے تعلق سے نکالا گیا تھا۔ ان میں روہت ایکٹ کے مطابق یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ضوابط کا نفاذ، وائس چانسلر کے ذریعہ مبینہ طور پر ذات پات پر مبنی تبصرے کے لیے معافی و استعفیٰ اور سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے فنڈز میں اضافہ جیسے مطالبات شامل تھے۔

طلباءکا کہنا ہے کہ یہ مدعے مساوی مواقع اور سماجی انصاف سے متعلق ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ ان کے مسائل سننے کے بجائے زور -زبردستی کا سہارا لے رہی ہے۔ آئیسا اور طلبہ یونین کا دعویٰ ہے کہ سینکڑوں طلبہ کے پرامن اجتماع کے باوجود پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ اس میں کئی طلبازخمی ہوگئے اور کچھ کو 14 گھنٹے سے زیادہ کے لیے تھانے میں حراست میں رکھا گیا۔ اس واقعے کے سلسلے میں طلبہ یونین کی صدر ادیتی مشرا، جوائنٹ سکریٹری دانش علی، نائب صدور گوپیکا اور نتیش سمیت 14 طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس امت گوئل نے کہا کہ طلبہ کو جے این یو کیمپس کے باہر مارچ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے باوجود، تقریباً 3:20 بجے، 400-500 طلبہ مرکزی دروازے سے باہر نکلے اور مارچ کرنے لگے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین کو روکنے کے لیے کھڑی کی گئی بیریکیڈ کو نقصان پہنچایا گیا۔ احتجاج پرتشدد ہو گیا، کچھ طلبا نے بینرز، لاٹھیاں اور جوتے پھینکے۔ الزام ہے کہ کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ دھکا-مکی کی ۔ ہنگامہ آرائی میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس نے مظاہرین کو جے این یو کے نارتھ گیٹ پر روکا اور دھیرے دھیرے انہیں کیمپس کے اندر بھیجا۔ جو طلبا پرتشدد ہوگئے اور قانونی احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے ، انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے اور معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande