
علی گڑھ، 27 فروری (ہ س)۔
جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ امراض چشم نے قرنیہ کولیجن کراس لنکنگ (سی 3 آر / سی ایکس ایل) کی جدید سہولت کا آغاز کیا ہے، جس سے کیراٹو کونَس کے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے جو قرنیہ کی ایک بتدریج بڑھنے والی بیماری ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں شدید بصری کمزوری کا سبب بن جاتی ہے۔ شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر سیمیں ذکاء الرّب نے بتایا کہ یہ ٹکنالوجی اس وقت ہندوستان کے صرف چند طبی کالجوں میں دستیاب ہے، اور اب جے این میڈیکل کالج میں نہایت کم خرچ پر یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے مریض جدید علاج سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ نوجوان جنہیں بار بار آنکھوں کی الرجی، عینک کے نمبروں میں تیزی سے تبدیلی، یا دھندلا نظر آنے کی شکایت ہو، بیماری کو بڑھنے سے روکنے کے لیے جلداپنی جانچ کروائیں۔
کیراٹو کونَس کے معاملات نوجوانوں میں تیزی سے دیکھے جا رہے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جو الرجک آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، اور ایسے تقریباً 10 تا 15 فیصد مریضوں میں قرنیہ متاثر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں اس بیماری کی شرح دیہی آبادی میں تقریباً 2.3 فیصد بتائی جاتی ہے، جبکہ دائمی الرجی، وٹامن ڈی کی کمی، جینیاتی رجحان، اور ایٹوپک امراض جیسے دمہ اور ایگزیما اس کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
پروفیسر ادیب عالم خان نے بتایا کہ سی 3 آر کے ساتھ ساتھ شعبہ میں کیراٹو کونَس کے مکمل علاج کی سہولیات بھی دستیاب ہیں، جن میں جدید قرنیہ امیجنگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی سافٹ ویئر، اور خصوصی اسکلیرل کانٹیکٹ لینس خدمات شامل ہیں، جو جانچ، مسلسل نگرانی اور بصری بحالی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد ثاقب نے اس بات پر زور دیا کہ ابتدائی تشخیص انتہائی اہم ہے، کیونکہ آنکھوں کو بار بار رگڑنا اور الرجی کا علاج نہ کرانا قرنیہ اور بینائی کے نقصان کو تیز کر سکتا ہے۔
مریض منگل اور بدھ کے دن جے این میڈیکل کالج، اے ایم یو میں آنکھوں کے او پی ڈی نمبر21 میں رجوع کر سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ