
جموں, 27 فروری (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جموں و کشمیر میں غیر قانونی کانکنی کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے تمام منرل ڈیلر لائسنسز (ایم ڈی ایل) کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر قانونی معدنی نکاسی اور قدرتی آبی ذخائر کا رخ موڑنے کے خلاف سخت پالیسی اختیار کر لی ہے۔
جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خندوال کے حالیہ دورے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ کانکنی کی سرگرمیوں کے باعث شدید ماحولیاتی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایک ڈیم کا رخ موڑنے سے ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جو انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بیلی چرانہ، خندوال اور نشیبی علاقے خصوصاً چھتہ اور اس کے اطراف اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو شدید تباہی کا سامنا کر سکتے ہیں۔
سریندر چودھری نے واضح کیا کہ مائننگ ڈیپارٹمنٹ کے مجاز نظام کے تحت جاری کردہ درست پرچی کے بغیر کسی بھی کرشر یونٹ سے کوئی گاڑی باہر نہیں نکل سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر دستاویزات معدنیات کی ترسیل ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ کرشر یونٹس اور کانکنی سے وابستہ تمام گاڑیوں، بشمول ڈمپرز، میں جی پی ایس سسٹم نصب کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی پی ایس ٹریکنگ کے بغیر کسی بھی گاڑی کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مائننگ سیکٹر میں اصلاحات کے تحت سیٹلائٹ نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا ہے تاکہ مجاز نکاسی اور گاڑیوں کی نقل و حرکت کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابقہ نظام میں بے ضابطگیوں کے باعث غیر قانونی معدنی فروخت کو فروغ ملا، اسی لیے تمام منرل ڈیلر لائسنس منسوخ کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی اسٹون ٹپر پرمٹس (ایس ٹی پیز) کا بھی ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ غیر قانونی کانکنی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر