
ممبئی ، 27 فروری (ہ س)۔ تھانے میں ہولی سے قبل ہی ’’ایڈوانس ہولی‘‘ کے رجحان نے تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے جہاں طلبہ پلاسٹک کی تھیلیوں میں پانی بھر کر سڑک پر چلنے والے افراد پر غبارے پھینک رہے ہیں۔ اس اچانک حملے سے نہ صرف راہگیر زخمی ہو رہے ہیں بلکہ گاڑیوں کا توازن بگڑنے سے بڑے حادثات کا اندیشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ اسکول اور کالج کے طلبہ غبارے پھینکنے کے بعد شور مچاتے ہوئے بھاگ جاتے ہیں جبکہ اس عمل کے خطرناک نتائج پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ حساس اعضا جیسے آنکھ، ناک، کان یا گردن پر غبارہ لگنے سے شدید چوٹ آ سکتی ہے۔ خاص طور پر دوپہر اور شام کے وقت مرکزی سڑکوں پر اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اگرچہ تھانے میونسپل کارپوریشن نے پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے، لیکن کئی دکانوں میں یہ تھیلیاں کھلے عام 10 سے 20 روپے میں فروخت ہو رہی ہیں۔ اس صورتحال پر ناراض شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پابندی نافذ ہے تو بازار میں فروخت کیسے جاری ہے، جس سے انتظامیہ کی کارروائی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔پلاسٹک سے بڑھتی آلودگی، نالوں کی بندش اور تہوار کے نام پر بڑھتی غیر ذمہ داری کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول انتظامیہ کو بھی طلبہ کو ذمہ دارانہ رویّے کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ اس طرح کے خطرناک رجحانات پر قابو پایا جا سکے۔ماہر ماحولیات ڈاکٹر پرشانت سنکر نے واضح کیا کہ پلاسٹک میں پانی بھر کر غبارے پھینکنا ماحول کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پانی کی بچت کریں، پلاسٹک سے پرہیز کریں اور ماحول دوست انداز میں ہولی منائیں تاکہ حقیقی معنوں میں گرین ہولی کا پیغام عام ہو سکے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے