
مالیگاؤں، 27 فروری (ہ س)۔ میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں نماز ادا کیے جانے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کمشنر رویندر جادھو نے بجلی محکمہ کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر ابھیجیت پوار کو جمعہ کے روز معطل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد شہر میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب شہریوں نے اپنے علاقے میں بند اسٹریٹ لائٹس کے خلاف بار بار شکایت کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر میونسپل دفتر پہنچ کر احتجاج کیا۔ انہوں نے متعلقہ افسر سے وضاحت طلب کی اور عملے پر دباؤ ڈالا، لیکن اسی دوران انجینئر میٹنگ کے لیے چلے گئے۔ نماز کا وقت ہونے پر وہاں موجود افراد نے دفتر میں ہی نماز ادا کر لی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی اور سخت ردعمل سامنے آیا۔گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں کئی تنازعات سامنے آ چکے ہیں، جن میں ڈپٹی میئر کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر لگانے کا معاملہ اور کیریٹ سومیا کے دورے کی مخالفت شامل ہے۔ اس نئے واقعے نے ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ ہندوتوا تنظیموں نے اس کے ردعمل میں کمشنر کے چیمبر میں ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا۔بی جے پی لیڈر کیریٹ سومیا نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو مکتوب بھیج کر سرکاری دفتر میں نماز ادا کرنے والوں پر مقدمہ درج کرنے اور ذمہ دار افسران کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔کمشنر کے حکم کے بعد بجلی محکمہ کے ملازم کی شکایت پر قلعہ پولیس نے سات افراد کے خلاف کیس درج کر لیا ہے۔فرائض میں غفلت اور دیگر وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ انجینئر ابھیجیت پوار کی معطلی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب سب کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا اس معاملے میں مزید انتظامی یا قانونی کارروائی کی جاتی ہے یا نہیں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے