
کولکاتا، 26 فروری (ہ س)۔ مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو کی موجودگی میں سالٹ لیک میں واقع بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفتر میں جمعرات کو ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر عظیم ادبی شخصیت بنکم چندر چٹوپادھیائے کے خاندان کے اور محکمہ لیبر کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار رکن سمتر چٹوپادھیائے نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ ریاستی صدر شمک بھٹاچاریہ اور مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی موجودگی میں پارٹی میں ان کا باضابطہ استقبال کیا گیا۔
پارٹی میں شامل ہونے کے بعد سمتر چٹوپادھیائے نے ریاستی حکومت کی روزگار پالیسی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے ساتھ رجسٹرڈ لاکھوں نوجوانوں کا ڈیٹا ایک انتظامی حکم کے ذریعے حذف کردیا گیا اور اسکی جگہ ”ایمپلائمنٹ بینک“ کا قیام کیا گیا، جس میں تقریباً 40 لاکھ نوجوان رجسٹرڈ تھے۔ بعد میں ’یووشری‘ اسکیم شروع کی گئی، جسے بند کر دیا گیا۔ فی الحال، ”یووا ساتھی“ اسکیم کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو محض 50 روپے یومیہ فراہم کیا جا رہاہے، جو روزگار کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔
اپنے خطاب میں مرکزی وزیر بھوپیندر یادو نے کہا کہ بنکم چندر چٹرجی کے تحریر کردہ ”وندے ماترم“ نے ملک میں قوم پرستی اور حب الوطنی کے جذبے کو تقویت بخشی ہے ۔ سمتر چٹرجی کا خیرمقدم کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ بنکم چندر کے نظریات اور قوم پرستانہ نظریات مغربی بنگال کو ”ترقی یافتہ بنگال“ کی تعمیر کے لیے ترغیب دیں گے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ سماج کے معزز اور قومی مفاد کے لیے وقف لوگوں کی بی جے پی میں شمولیت سے ریاست میں مثبت سیاسی اور سماجی تبدیلی کو مزید تقویت ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد