
فرخ آباد، 26 فروری (ہ س)۔ اتر پردیش کے فرخ آباد ضلع میں قائم گنج پولیس اور انتظامیہ نے اپنی زیرو ٹالرینس کی پالیسی کے تحت مجرموں اور مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ گینگسٹر زبیر خان اور اس کی والدہ کی 26 کروڑ روپے کی جائیداد ضبط کیے جانے کے تین دن بعد، اب اس کے قریبی ساتھی سکھویر یادو پر شکنجہ سخت کیا گیا ہے۔
جمعرات کو بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں سکھویر کی 1.75 کروڑ روپے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی گئی۔ تحصیلدار وکرم سنگھ چاہر، سی او راجیش دویدی، انسپکٹر انچارج مدن موہن چترویدی، ایس او میراپور راجیو پانڈے اور ریونیو ٹیم بھاری پولیس فورس کے ساتھ سکھویر کے گاو¿ں پہنچی۔ پورے علاقے میں ڈھول -نگاڑوں کے ساتھ منادی کروائی ، تاکہ عام لوگوں کو انتظامیہ کی جانب سے کی گئی سخت کارروائی کا پیغام مل سکے۔ پولیس نے سکھویر کے گھر کی دیوار پر متعلقہ کیس کی تفصیلات لکھوائی اور اس کے بعد گھر کو سیل کر دیا۔ ٹیم نے علی گنج روڈ پر واقع اس کی زرعی زمین پر امتناع کا بورڈ بھی لگا دیا۔
ضلع مجسٹریٹ آشوتوش کمار دویدی کے حکم پر کی گئی اس کارروائی میں سکھویر کی غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی جائیداد ضبط کر لی گئی۔ ان میں قائم گنج-علی گنج روڈ پر تقریباً 65 لاکھ روپے کے مالیت کا ایک دو منزلہ مکان اور رتول گاو¿ں میں تقریباً 45 لاکھ روپے کی زرخیز زمین شامل ہے۔ سکھویر کے نام پر رجسٹرڈ آٹھ گاڑیاں، جن میں سات ٹرک اور ایک موٹرسائیکل شامل ہیں،جن کی کل قیمت63.41لاکھ روپے ہے ۔ سکھویر اور اس کی بیوی ممتا کے مختلف کھاتوں میں جمع 2.03 لاکھ روپے کی رقم بھی منجمد کر دی گئی ہے۔
پولیس کی تفتیش کے مطابق زبیر خان کا منظم گینگ آٹھ اہم ارکان پر مشتمل تھا۔ ان میں سے زبیر اور موبین نے خود سپردگی کر دی ہے جبکہ سکھویر پہلے سے ہی جیل میں ہے ۔ گینگ کے دیگر ارکان، پشپیندر، آدیش، طارق عرف طالب اور پون، فی الحال گرفتاری کے عدالتی حکم کے تحت ہیں، جبکہ رام نریش فرار ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آشوتوش کمار دویدی نے کہا کہ جرم کے ذریعے غیر قانونی پیسہ کمانے والے کو بخشا نہیں جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد