بہوجن مخالف سماج وادی پارٹی کا کانشی رام کے یوم پیدائش کو پی ڈی اے ڈے کے طور پر منانا محض ڈرامہ ہے: مایاوتی
لکھنو، 26 فروری (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے آج سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی طرف سے بہوجن سماج پارٹی کے بانی کانشی رام کے یوم پیدائش کو پی ڈی اے ڈے کے طور پر منانے کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اسے ایک میلو ڈرامہ قرار
مایا


لکھنو، 26 فروری (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے آج سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی طرف سے بہوجن سماج پارٹی کے بانی کانشی رام کے یوم پیدائش کو پی ڈی اے ڈے کے طور پر منانے کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اسے ایک میلو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے مایاوتی نے ایس پی کو دلت مخالف اور بہوجن مخالف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ کی خاطر کیا جا رہا ہے۔

بی ایس پی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں ایس پی کے طرز عمل، کردار اور چہرے کو دلت مخالف، او بی سی مخالف اور بی ایس پی مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس پی کی بہوجن سماج کے سنتوں، گرووں اور عظیم شخصیات کی توہین اور بے عزتی کی تاریخ رہی ہے۔ اس لیے بی ایس پی کے بانی کانشی رام کے یوم پیدائش پر سماج وادی پارٹی کی جانب سے پی ڈی اے کا دن منانا سیاسی تھیٹر کے سوا کچھ نہیں ہے۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ایس پی کا بدلا ہوا رویہ ان نظر انداز طبقات کے ووٹوں کی خاطر ہے۔ دوسری اپوزیشن جماعتیں بھی ان طبقات کے ووٹوں کی خاطر اسی طرح کے ڈھونگ رچاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1993 میں ایس پی اور بی ایس پی کے اتحاد میں پہلی شرط دلتوں اور دیگر کمزور طبقوں پر مظالم کو روکنا تھی لیکن اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے اپنا رویہ نہیں بدلا اور پھر بی ایس پی کو یکم جون 1995 کو حکومت سے اپنی حمایت واپس لینا پڑی۔اس کے اگلے ہی دن اسٹیٹ گیسٹ ہاو¿س میں میرے اوپر جان لیواحملہ ہوا ۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ایس پی کو اقتدار میں لانے والے کانشی رام کے اعزاز میں بی ایس پی حکومت نے کاس گنج کوضلع ہیڈکوارٹر کا درجہ دیا اور کانشی رام نگر ضلع بنایا۔ اکھلیش یادو اس سے خوش نہیں تھے، اور ایس پی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی نام بدل دیا گیا۔ یہ بہوجن سماج کے ساتھ غداری ہے۔ اسی طرح اترپردیش اردو فارسی عربی یونیورسٹی اور سہارنپور میںسرکاری اسپتال کے نام بھی ایس پی حکومت نے بدل دیے۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ایس پی کا موقف بھی مسلم مخالف رہا ہے۔ کانگریس کی طرح، ایس پی حکومتوں کے تحت فرقہ وارانہ فسادات نے بھی لاکھوں خاندانوں کو متاثر کیا، جس سے جان و مال کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ ایس پی، کانشی رام کو زندگی میں عزت دینے کی بات تو چھوڑ دیں، ان کی موت کے بعد ایک دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کرنے میں بھی ناکام رہے۔ ایس پی نے بہوجن سماج کو جواب دینا ہے۔ اس لیے ایس پی کے ان دلت مخالف اور ذات پات پرستی کے اقدامات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بہوجن سماج کے لوگوں کو ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے، یہی بی ایس پی کی اپیل ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے بانی اور دلت لیڈر مانویندر کانشی رام کا یوم پیدائش ہر سال 15 مارچ کو منایا جاتا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande