
نئی دہلی، 26 فروری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے لداخ کے کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ انجلی کی طرف سے ان کی گرفتاری کو چیلنجکرنے والی درخواست پر سماعت 10 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس اروند کمار کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ وہ ہولی کی تعطیلات کے دوران وانگچک کی تقریروں کے ویڈیوز دیکھے گی۔
عدالت نے کہا کہ اس نے سپریم کورٹ کے آئی ٹی رجسٹرار سے کہا ہے کہ ہولی کی چھٹیوں کے دوران پین ڈرائیو کی ویڈیوز دیکھنے کے انتظامات کریں۔ عدالت نے کہا کہ وہ ویڈیوز دیکھنے کے بعد 10 مارچ کو اس معاملے پر سماعت مکمل کرے گی۔ 16 فروری کو سپریم کورٹ نے جودھ پور جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ سونم وانگچک کو حراست کے دوران دی گئی پین ڈرائیو کو سیل کر کے عدالت میں پیش کرے۔ سپریم کورٹ نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے سونم وانگچک کی تقاریر سے متعلق جو ٹرانسکرپٹ دی ہے، اس میں ترجمے میںکافی فرق ہے ۔
سماعت کے دوران 8 جنوری کوسینئر وکیل کپل سبل نے چوری چورا واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک نے تشدد کے بعد فوری طور پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گاندھی جی نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ جب چوری چورا واقعے کے بعد تشدد ہوا تھا، تب انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
کپل سبل نے کہا کہ گرفتاری کے 28 دن بعد ان کو حراست میں لینے کی بنیادنہیں بتائی گئی ، جو قانونی مدت کی حد کی واضح خلاف ورزی ہے۔ سبل نے کہا کہ قانون یہ ہے کہجن دستاویزات کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے،اگر وہ ملزم کو دستیاب نہیں کرائے جاتے ہیں تو نظر بندی کا حکم کالعدم ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں یہ بات کہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد