وزیر سود نے مہاراجہ اگرسین کالج میں اسٹوڈنٹ فیسیلٹی سینٹر کا افتتاح کیا
نئی دہلی، 26 فروری (ہ س)۔ دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے جمعرات کومہاراجہ اگرسین کالج وسندھرا میں نو تعمیر شدہ اسٹوڈنٹ فیسیلیٹی سنٹر کا افتتاح کیا اور انڈین نالج ٹریڈیشن سنٹر، اسپورٹس فیسیلٹی لاو¿نج کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر تعلیم نے
Sood-inaugurates-Student-Facility-Centre


نئی دہلی، 26 فروری (ہ س)۔ دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے جمعرات کومہاراجہ اگرسین کالج وسندھرا میں نو تعمیر شدہ اسٹوڈنٹ فیسیلیٹی سنٹر کا افتتاح کیا اور انڈین نالج ٹریڈیشن سنٹر، اسپورٹس فیسیلٹی لاو¿نج کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر تعلیم نے کالج کی لائبریری میں ایک ملٹی میڈیا سیمینار ہال، پانچ اسمارٹ کلاس روم اور آر ایف آئی ڈی سے چلنے والے لائبریری مینجمنٹ سسٹم کا بھی آغاز کیا۔ پروگرام کی صدارت پروفیسر بلرام پانی (ڈین آف کالجس، دہلی یونیورسٹی) نے کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آشیش سود نے کہا کہ اولی تعلیم کے شعبے میں دہلی حکومت جدید بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے، تکنیکی طور پر بااختیار بنانے اور ہندوستانی علمی روایت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹوڈنٹ فیسیلٹی سینٹر طلبا کے لیے ایک جامع اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرے گا، جب کہ انڈین نالج ٹریڈیشن سینٹر ہندوستانی علم، ثقافت اور روایات کے مطالعہ اور تحقیق کو ایک نئی سمت فراہم کرے گا۔ اسمارٹ کلاس روم اور آر ایف آئی ڈی پر مبنی لائبریری کا نظام تعلیم اور سیکھنے کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کرے گا، طلبا کو ڈیجیٹل اور ہموار خدمات فراہم کرے گا۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ دہلی میں کسی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارے کو فنڈنگ کے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کسی استاد کو اپنے وقار کے دفاع کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گااور کوئی طالب علم بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے پیچھے نہیں رہے گا۔ حکومت وراثتی مسائل کو حل کرے گی، جس طرح شہر کے کوڑے کے پہاڑوں کو مشن موڈ پرختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں پچھلی حکومتوں کے دور میں کئی اعلیٰ تعلیمی ادارے اپنی نااہلی، نظر اندازی اور سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے نظرانداز ہوئے۔ فنڈز کی کمی، تنخواہوں میں تاخیر، تعمیرات کے لیے وسائل کی کمی جیسے مسائل عام تھے۔ تنازعات اور عدم استحکام کا وہ دور اب ختم ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں دہلی حکومت اسکولوں، کالجوں، تکنیکی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی مجموعی اور متوازن ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

آشیش سود نے یہ بھی کہا کہ حکومت تعلیم کے میدان میں پیمانہ اور رفتار کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں بڑے پیمانے پر اسمارٹ کلاس رومز لگائے جارہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں، 9 سے 12 جماعت کے طلبا کے لیے 7000 کلاس رومز کو اسمارٹ کلاس رومز میں تبدیل کیا جائے گا۔ طلبا کو ان کے امتحانات کے بعد خصوصی تعلیمی دورے اور انٹرن شپ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

وزیر نے کہا کہ دہلی کا تعلیمی ماڈل اب کچھ منتخب علاقوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ دارالحکومت کے ہر کونے تک پہنچے گا۔ ڈی یو کالج، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ، پولی ٹیکنک اور ریسرچ سینٹرز کو مربوط انداز میں تیار کیا جائے گا۔ ہمارا مقصد دہلی کو’اسناد کی تقسیم کا مرکز‘ نہیں بلکہ’علم کی پیداوار کا مرکز‘ بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ برسوں سے تعلیم کو محض تشہیر کا ایک آلہ بنا دیا گیا تھا، لیکن نظامی مضبوطی کا فقدان تھا۔ اب حکومت دکھاوے کے بجائے نظام کو مضبوط کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande