شعبہ اردو میں ریسرچ ایسوسی ایشن کے تحت جلسے کا اہتمام
شعبہ اردو میں ریسرچ ایسوسی ایشن کے تحت جلسے کا اہتمام علی گڑھ، 26 فروری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے رشید احمد صدیقی ہال میں ریسرچ ایسوسی ایشن کے تحت ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ تحقیق کو فروغ دینے اور طلبہ و طالبات میں ریسرچ سے لگاؤ پیدا ک
ریسرچ ایسوسی ایشن پروگرام


شعبہ اردو میں ریسرچ ایسوسی ایشن کے تحت جلسے کا اہتمام

علی گڑھ، 26 فروری (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے رشید احمد صدیقی ہال میں ریسرچ ایسوسی ایشن کے تحت ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ تحقیق کو فروغ دینے اور طلبہ و طالبات میں ریسرچ سے لگاؤ پیدا کرنے میں شعبے کی ریسرچ ایسوسی ایشن کا اہم کردار ہے، جس کا قیام ہی اسی لیے عمل میں آیا تھا تاکہ طلبہ و طالبات کو ایک پلیٹ فارم مل سکے۔ اس موقع پر صدر شعبہ اردو پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی نے طلبہ و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانا چاہیے، یہاں آپ کو اساتذہ کی رہنمائی حاصل ہے، آپ ایک پیپر لکھتے ہیں اور جب اسے اپنے اساتذہ کی موجودگی میں اپنے ساتھیوں کو سناتے ہیں تو اس سے اعتماد میں اضافہ ہوتاہے۔ انھوں نے ریسرچ ایسوسی ایشن کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کی تحقیقی صلاحیتوں کا فروغ ہی اس ایسوسی ایشن اور اس کے جلسوں کا بنیادی مقصد ہے۔

اس پروگرام میں تین ریسرچ اسکالرزنے مقالے پیش کیے۔ صدام حسین مضمر کے مقالے کا عنوان تھا:”مناظر فطرت اور ان سے متعلق لفظیات میں راشد انور راشد کا فکری شعور“۔ طاہر حسین نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان و ادب کی ترقی کے امکانات ایک جائزہ کے عنوان سے اور رئیس عالم نے مخمور سعیدی کی غزلیہ شاعری (ماضی کے حوالے سے) عنوان پر مقالے پیش کیے۔

مہمان خصوصی پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ ایسوسی ایشن کے جلسے در اصل تربیتی ورکشاپ ہیں، یہاں اگر آپ اپنے تحقیقی مضامین پیش کرتے ہیں تو اس سے آپ کی تحقیق کو جلا ملے گی، اسی طرح اسٹیج پر مقالہ پڑھنے کی بھی ٹریننگ ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اس ایسوسی ایشن کی ایک دیرینہ روایت رہی ہے، جس کے آپ لوگ امین ہیں، اور امانت کا حق اسی وقت ادا ہوگا جب سرگرم شرکت کرکے اس سے کچھ سیکھیں گے۔

ڈاکٹر معید الرحمن نے مقالہ پیش کرنے والے ریسرچ اسکالرز کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں میں جو باتیں درج ہیں ان کو نقل کردینا ہی مقالہ نہیں ہے بلکہ یہ ضروری ہے کہ آپ اپنا نقطہ نظر بھی بیان کریں اور بتائیں کہ متعدد مآخذ تک رسائی اور مطالعے کے بعد آپ کس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنقید ہو یا تحقیق دونوں میں نتائج بہت اہم ہوتے ہیں ورنہ سب کچھ کتابوں میں درج ہے۔ ڈاکٹر معید الرحمن نے ہر مقالے کی کمیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تحقیقی و تنقیدی میدان میں رہنمائی کی۔

اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر ضیاء الرحمن نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی حکومت کی ایک اہم پالیسی ہے جس میں مادری زبان کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے اس تعلیمی پالیسی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازوں نے مستقبل کے ہندوستان کو ذہن میں رکھ کر پالیسی بنائی ہے۔ پروگرام میں ریسرچ اسکالرز، بی اے اور ایم اے کے طلبہ و طالبات کے ساتھ شعبے کے اساتذہ نے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande