
حیدرآباد، 26 فروری (ہ س)۔ حیدرآبادکے شہریوں کےلئے آمدورفت کی سہولیات کومزیدبہتر بنانے کے لیے حکومت ایک جدید ٹرانسپورٹ سسٹم پوڈ ٹیکسی متعارف کروانے کی تیاری کر رہی ہے۔ میٹرومسافروں کواسٹیشن سے ان کی منزل تک پہنچانے کے مسئلہ کوحل کرنے کے لیے پرسنل ریپڈٹرانزٹ(پی آرٹی) کے نام سے یہ نظام لایاجارہاہےجومیٹرواسٹیشنوں کوبراہ راست بڑے دفاتر،آئی ٹی ہب اوررہائشی علاقوں سے جوڑے گا۔
فی الوقت حیدرآباد میں روزانہ تقریباً پانچ لاکھ افرادمیٹروکااستعمال کرتے ہیں لیکن ان کواسٹیشن سے اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے بسوں اورآٹوکی عدم دستیابی،زیادہ کرائے اورٹریفک کے مسائل کاسامناکرناپڑتاہے۔ان مشکلات کے پیشِ نظرحکومت نے سڑکوں کے ٹریفک سے ہٹ کرایلیویٹیڈٹریکس پرچلنے والی پوڈ ٹیکسیوں کے منصوبہ کا فیصلہ کیا ہے۔
پہلے مرحلہ میں یہ منصوبہ رائے درگم سے کوکٹ پلی،رائے درگم سے ہائی ٹیک سٹی،فینانشل ڈسٹرکٹ، نالج سٹی اورسکریٹریٹ کے قریبی علاقوں میں نافذکرنے پرغورکیاجارہاہے۔یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ڈیزائن، بلڈ،فینانس،آپریٹ اورٹرانسفرماڈل پرتیارکیاجائےگا جس کےلئے تکنیکی اورالیاتی مطالعہ کرنے والے مشیرکے انتخاب کاعمل شروع ہوچکا ہے۔یہ پوڈٹیکسیاں مکمل طورپرخودکارہوں گی جوبغیرڈرائیورکے چلیں گی اوران کی رفتار40کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔
ایک وقت میں 6 سے 8 مسافروں کی گنجائش والی یہ ٹیکسیاں فی گھنٹہ تقریباً10ہزارافرادکو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھیں گی۔بجلی یابیٹری پرچلنے کی وجہ سے یہ ماحول دوست ہوں گی اوران میں ایڈوانس بکنگ کی سہولت بھی میسرہوگی جس سے سفر کا وقت کافی حد تک کم ہوجائے گا۔ ممبئی میں اس طرح کے منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد اب حیدرآباد بھی ٹرانسپورٹ کے اس نئے باب کا آغاز کرنے کے لئے تیار ہے۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ چند سالوں میں یہ سہولت شہریوں کے لئے دستیاب ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق