
راجیہ سبھا کی نشست پر مہاوکاس اگھاڑی میں اختلافات۔ شرد پوار کی امیدواری کے درمیان کانگریس کا بھی دعویٰممبئی ، 26 فروری (ہ س)۔ آئندہ راجیہ سبھا انتخابات کے پیش نظر مہاوکاس اگھاڑی میں نشست کی تقسیم کو لے کر اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں، کیونکہ ریاست کی سات نشستوں میں سے اتحاد اپنی عددی طاقت کے بل بوتے صرف ایک ہی نشست جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ اسی ایک نشست کے لیے این سی پی (ایس پی)، شیوسینا (یو بی ٹی) اور کانگریس کے درمیان دعوے داری نے سیاسی سرگرمیوں کو تیز کر دیا ہے۔مہاوکاس اگھاڑی کے تینوں اتحادیوں — شیوسینا (یو بی ٹی)، کانگریس اور این سی پی (ایس پی) — کے پاس مجموعی طور پر 46 ارکان اسمبلی ہیں، جس کے باعث اتحاد صرف ایک امیدوار کو کامیاب کرا سکتا ہے۔ این سی پی (ایس پی) کی جانب سے سینیارٹی کی بنیاد پر شرد پوار کو دوبارہ راجیہ سبھا بھیجنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔دوسری طرف یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے بھی اسی نشست پر اپنا دعویٰ پیش کیا ہے۔ اسی دوران کانگریس نے بھی اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اس نشست پر حق جتایا ہے، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے قائد وجئے وڈیٹیوار نے کہا کہ کانگریس ایک قومی پارٹی ہے، اس لیے راجیہ سبھا کی نشست اسے دی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نشستوں کی تقسیم کا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تینوں پارٹیاں مل کر انتخاب لڑیں گی اور امیدوار کا حتمی فیصلہ باہمی اتفاق رائے سے ہوگا۔ راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 5 مارچ ہے، اس لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ باوقار مذاکرات کے بعد ہی آخری فیصلہ کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے