مدھیہ پردیش: اسمبلی میں سنگرولی کول بلاک کے مسئلے پر زبردست ہنگامہ، اپوزیشن نے جانچ کا مطالبہ کیا
مدھیہ پردیش: اسمبلی میں سنگرولی کول بلاک کے مسئلے پر زبردست ہنگامہ، اپوزیشن نے جانچ کا مطالبہ کیا بھوپال، 26 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے نویں دن جمعرات کو ایوان میں سنگرولی ضلع کے دھیرولی میں واقع اڈانی کے کول بلاک کے معاملے پر
مدھیہ پردیش اسمبلی


مدھیہ پردیش: اسمبلی میں سنگرولی کول بلاک کے مسئلے پر زبردست ہنگامہ، اپوزیشن نے جانچ کا مطالبہ کیا

بھوپال، 26 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے نویں دن جمعرات کو ایوان میں سنگرولی ضلع کے دھیرولی میں واقع اڈانی کے کول بلاک کے معاملے پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کے ارکان اسمبلی نے معاملے کی جانچ اسمبلی کمیٹی سے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں نعرے بازی شروع کر دی، جس کے باعث دو بار ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔

مدھیہ پردیش اسمبلی میں جمعرات کو وقفہ سوالات کے دوران لیڈر حزب اختلاف امنگ سنگھار نے سنگرولی ضلع کے دھیرولی میں واقع اڈانی کے کول بلاک کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کول بلاک کے لیے 8 گاوں کی زمین کا حصول کیا جا رہا ہے اور کلکٹر کی فہرست کے مطابق 12,998 خاندان متاثر ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متاثرہ قبائلی خاندانوں کو پورا معاوضہ نہیں ملا ہے۔ معاوضے کی رقم بیرونی لوگوں کو بھی دی گئی ہے۔ انہوں نے ایوان میں الزام لگایا کہ تھانہ انچارج جتیندر بھدوریا کی بیوی کو 15,94,990 روپے اور ٹریفک انچارج دیپیندر سنگھ کشواہا کی بیوی سواتی سنگھ کے نام پر 14,42,482 روپے معاوضہ دیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے کی اسمبلی کمیٹی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔

لیڈر حزب اختلاف نے الزام لگایا کہ حکومت کول بلاک کے نام پر اڈانی کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور متاثرہ لوگوں کو پورا معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوتی، تب تک کول بلاک کا کام روکا جانا چاہیے۔ اس پر وزیر پرہلاد پٹیل نے کہا کہ حکومت کی معاوضہ پالیسی کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ معاوضہ وصولنے والے لوگوں کی فہرست ایوان کی میز پر رکھی جائے گی اور اگر کوئی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو تفتیش کرائی جائے گی۔

وہیں، وزیر محصول کرن سنگھ ورما نے کہا کہ اب تک 1,552 متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جا چکا ہے۔ ہر قبائلی خاندان کو تقریباً 50 لاکھ روپے تک معاوضہ ملے گا۔ اگر کسی بیرونی شخص کو معاوضہ ملا ہے تو اس کی جانچ کرائی جائے گی۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے اسمبلی کمیٹی سے جانچ کرانے کے مطالبے کو لے کر ہنگامہ کیا۔ اس پر اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ وزیر نے جانچ کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مسلسل ہنگامے کے باعث اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

اسمبلی کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے تمام ارکان سے اپنی نشستوں پر بیٹھنے کو کہا۔ اس وقت کئی ارکان اسمبلی ویل (گربھ گرہ) میں کھڑے ہو کر نعرے بازی کر رہے تھے۔ کانگریس رکن اسمبلی بھنور سنگھ شیخاوت نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کے لیے سینئر وزیر کیلاش وجے ورگیہ کی صدارت میں کمیٹی بنائی جائے۔ کمیٹی موقع پر جا کر صورتحال کا معائنہ کرے گی تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔

اس پر سنگرولی کی انچارج وزیر سمپتیا اوئیکے نے کہا کہ علاقے میں 33 ہزار درخت کاٹے گئے ہیں اور انہوں نے خود موقع کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ گاؤوں کی زمین ایکوائر کی گئی ہے اور فی الحال وہاں کوئلہ نہیں نکالا جا رہا ہے، صرف مٹی ہٹانے کا کام چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قبائلی خاندانوں کو پورا اور مناسب معاوضہ نہیں ملے گا، تب تک آگے کی کارروائی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ وزیر نے جانچ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور معاوضہ ملنے کے بعد ہی آگے کی کارروائی ہوگی۔ اس لیے اس موضوع پر بحث ختم کی جانی چاہیے۔ کانگریس رکن اسمبلی شیخاوت نے کہا کہ وزیر خود تسلیم کر رہی ہیں کہ درخت کاٹے جا رہے ہیں اور مٹی ہٹائی جا رہی ہے۔ الزامات درست ثابت ہو رہے ہیں اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش ضروری ہے۔ وزیر پرہلاد پٹیل نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے لیے گئے فیصلے کا تمام ارکان اسمبلی کو احترام کرنا چاہیے اور ایوان کا وقار برقرار رکھنا چاہیے۔

لیڈر حزب اختلاف امنگ سنگھار نے کہا کہ کانگریس کا وفد جب علاقے میں گیا تو اسے وہاں جانے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ویڈیو بھی موجود ہیں اور حکومت گڑبڑی سے انکار کر رہی ہے۔ ادھر، دوبارہ کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ اسمبلی کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر کانگریس ارکان اسمبلی نے سنگرولی کے دھیرولی کول بلاک معاملے کی جانچ کو لے کر ہنگامہ شروع کر دیا۔ کانگریس ارکان اسمبلی جانچ کے لیے اسمبلی کمیٹی تشکیل دینے کے مطالبے پر اڑے رہے۔

اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ وقفہ سوالات ختم ہو چکا ہے اور حکومت نے معاملے کی جانچ کرانے کی بات تسلیم کر لی ہے۔ انہوں نے ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے تمام ارکان سے تعاون کرنے کو کہا۔ اسپیکر کی جانب سے وقفہ صِفر کے نوٹس پڑھنے کی ہدایت دینے کے باوجود کانگریس ارکان اسمبلی نعرے بازی کرتے رہے۔ کانگریس ارکان نے معاملے کی جانچ اور کارروائی کا مطالبہ دہرایا۔ اسپیکر کی یقین دہانی کے باوجود کانگریس ارکان اسمبلی مطمئن نہیں ہوئے اور احتجاج جاری رکھا۔ اس کے بعد کانگریس کے ارکان اسمبلی نے احتجاجاً ایوان کی کارروائی سے واک آوٹ کر دیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande