
مدھیہ پردیش اسمبلی میں گونجا اسکول کی عمارتوں کی دیکھ بھال میں بدعنوانی کا معاملہ، وزیر نے کہا- قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی
بھوپال، 26 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے نویں دن جمعرات کو ایوان میں اسکول کی عمارتوں کی دیکھ بھال میں بدعنوانی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے حکومت پر لاپرواہی برتنے کا الزام لگایا تو وہیں اسکولی تعلیم وزیر نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کہی۔
دراصل، اسمبلی میں جمعرات کو میہر سے بی جے پی رکن اسمبلی شری کانت چترویدی نے توجہ دلاو نوٹس کے ذریعے ریاست میں اسکول کی عمارتوں کی دیکھ بھال میں لاپرواہی کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کئی اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور ان کی دیکھ بھال میں لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے جاری کیے جانے کے باوجود اسکولوں کی حالت میں بہتری نہیں آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے افسران اور کمشنر پبلک انسٹرکشن کی سطح تک ملی بھگت کر کے بے ضابطگیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دیکھ بھال کے نام پر رقم کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور پورے معاملے کی تفتیش کرائی جانی چاہیے۔
اس کے جواب میں اسکولی تعلیم کے وزیر ادے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ تعلیمی سیشن شروع ہونے سے قبل اسکولوں کی دیکھ بھال، پینے کے پانی اور دیگر سہولیات کے لیے کارروائی کی جاتی ہے۔ اسکولوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں 50 لاکھ روپے تک کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ فنڈ کی فراہمی مانگ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور ایف آئی آر درج کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساندیپنی اسکول کے پرنسپل سمیت دیگر اسکولوں کے کل 17 لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔
رکن اسمبلی چترویدی نے کہا کہ میہر ضلع کے رام نگر علاقے میں 22 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کے لیے لکھا گیا ہے، جس سے گڑبڑی کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بیرونی ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور پوری ریاست میں معاملے کی تفتیش کرائی جانی چاہیے۔ وزیر ادے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ شکایت سامنے آنے کے بعد کارروائی کی گئی ہے اور کسی بھی قصوروار کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔
اس معاملے کو لے کر کانگریس رکن اسمبلی لکھن گھنگھوریا نے کہا کہ وزیر نے تسلیم کیا ہے کہ اسکولوں کی دیکھ بھال کے لیے پہلے مرحلے میں جو رقم جاری ہوتی ہے، وہ کلکٹر کے ذریعے دی جاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بغیر ٹینڈر اور بغیر کسی شفاف عمل کے، بھوپال میں طویل عرصے سے تعینات افسران یہ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی چھوٹی موٹی بدعنوانی نہیں، بلکہ پوری ریاست سے جڑا معاملہ ہے۔ اگر پچھلے تین سالوں کا ریکارڈ طلب کر کے تفتیش کرائی جائے تو کروڑوں روپے کے گھوٹالے کا انکشاف ہو سکتا ہے۔ کئی جگہ کام نہیں ہوا، لیکن ادائیگی کر دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا صرف بھوپال کے ہی ٹھیکیدار کام کرتے ہیں اور مقامی ٹھیکیداروں کو موقع کیوں نہیں دیا جاتا۔ گھنگھوریا نے مطالبہ کیا کہ تفتیش شروع کرنے سے پہلے ہی متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر، جوائنٹ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے، تاکہ غیر جانبدارانہ تفتیش ہو سکے۔
اس پر اسکولی تعلیم وزیر ادے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ میہر کے واقعے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ دیگر اضلاع میں بھی ایسی گڑبڑیاں ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سکریٹری کو پورے معاملے کی تفتیش کی ہدایت دی گئی ہے اور کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا۔ اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر نے اس معاملے میں رولنگ دی کہ اگر کوئی شخص یا افسر تفتیش کو متاثر کر سکتا ہے، تو اس کے سلسلے میں مناسب فیصلہ لیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد وزیر ادے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ جو بھی شخص تفتیش سے متعلق ہے اور الزامات کے دائرے میں ہے، اسے وہاں سے الگ کر کے ہی تفتیش کرائی جائے گی۔ ساتھ ہی تفتیش میں قصوروار پائے جانے پر اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن