کڑکڑڈوما کورٹ نے 2020 دہلی فسادات کیس میں تین ملزمین کو بری کیا۔
نئی دہلی، 26 فروری (ہ س): کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پروین کمار سنگھ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے تین ملزمین کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ساگر، دیویندر گوتم اور انمول کو بری کر دیا۔ تینوں کے خلاف ہنگامہ آرائی، آتش زنی، ڈکیتی ا
بری


نئی دہلی، 26 فروری (ہ س): کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پروین کمار سنگھ نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے تین ملزمین کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ساگر، دیویندر گوتم اور انمول کو بری کر دیا۔ تینوں کے خلاف ہنگامہ آرائی، آتش زنی، ڈکیتی اور پبلک پراپرٹی کو نقصان کی روک تھام کے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ عدالت نے تینوں کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ ان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔

دہلی پولیس کے مطابق، تینوں ملزمان اس ہجوم کا حصہ تھے جس نے 25 فروری 2020 کو سونیا وہار علاقے کے قریب ملن گارڈن میں ہنگامہ آرائی کی۔ سونیا وہار پولیس اسٹیشن میں ان کے خلاف دفعہ 148، 149، 188، 427، 435، 436، 380، اور 395 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ استغاثہ نے محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کی سی سی ٹی وی فوٹیج پر انحصار کیا۔ اس فوٹیج کو ہارڈ ڈسک میں محفوظ کیا گیا اور بعد میں فرانزک لیبارٹری کو بھیج دیا گیا۔ فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔

عدالت نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے الیکٹرانک شواہد ناقص تھے اور اسے مقدمے کی سماعت کے دوران دوبارہ پیش کرنے کی اجازت دینا ایویڈنس ایکٹ کے سیکشن 65بی کی خلاف ورزی ہوگی۔ اس لیے ویڈیو فوٹیج کو بطور ثبوت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور تقریباً 200 لوگ زخمی ہوئے تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande