
حیدرآباد، 26 فروری (ہ س)۔ تلنگانہ کے سرکردہ ماونوازوں کی خودسپردگی میں تلنگانہ پولیس کے اسپیشل انٹلی جنس برانچ کی سربراہ آئی جی پی سومتی کا اہم رول رہا ہے۔انہوں نے ماونوازوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لئے طویل اور انتہائی نازک مذاکرات کی نگرانی کی۔ ان ماونوازوں نے آئی جی سومتی اورایس آئی بی ٹیم کی پیشہ ورانہ کاوشوں کی وجہ سے ہی موجودہ حالات کو سمجھا اورہتھیارڈالنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کے پیچھے یہ سوچ کارفرماتھی کہ اگریہ ماونوازانکا ونٹرمیں ہلاک ہوجاتے توشہید کہلاتے اوراگرگرفتارہوتے توہیروبن جاتے لیکن ہتھیارڈالنے کی صورت میں ان کی عسکری حیثیت صفرہوجاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ہتھیار ڈالنے والے ماؤ نواز رہنما ایم وینوگوپال راؤ کے برعکس ایک اور سرکردہ ماونوازدیوجی کا مسلح جدوجہد چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن سومتی نے اپنی مہارت سے انہیں اس پرقائل کیا۔
بی سومتی ایک تجربہ کار انٹلی جنس عہدیدارہیں جوگزشتہ دو سالوں کے دوران تلنگانہ پولیس کے سامنے 591 ماؤ نوازوں کے ہتھیارڈالنے کے عمل کی نگرانی کرچکی ہیں۔2001 بیچ کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے طور پرکیریئرکاآغازکرنے والی سومتی کو 2006 میں آئی پی ایس کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ وہ اس سے قبل کاؤنٹر انٹلی جنس سیل میں انڈرکورآپریشن اور سی آئی ڈی کے ویمن پروٹیکشن سیل میں ڈی آئی جی کے طورپربھی گراں قدرخدمات انجام دے چکی ہیں۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق