کٹھوعہ میں پیپر مل میں آتشزدگی کی واردات
کٹھوعہ میں پیپر مل میں آتشزدگی کی واردات جموں، 26 فروری (ہ س)۔ کٹھوعہ کے صنعتی علاقے میں مسلسل دوسرے دن پیپر مل میں آگ لگنے کے واقعے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ بدھ کے روز امن پیپر مل میں آگ لگنے کے بعد جمعرات کو کومل پیپر مل میں بھی اچانک آگ بھ
Fire


کٹھوعہ میں پیپر مل میں آتشزدگی کی واردات

جموں، 26 فروری (ہ س)۔ کٹھوعہ کے صنعتی علاقے میں مسلسل دوسرے دن پیپر مل میں آگ لگنے کے واقعے سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ بدھ کے روز امن پیپر مل میں آگ لگنے کے بعد جمعرات کو کومل پیپر مل میں بھی اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ دونوں واقعات نے صنعتی یونٹوں کی حفاظتی تیاریوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کومل پیپر مل، جو جموں–پٹھانکوٹ قومی شاہراہ کے قریب مگر کھڈ کے پاس واقع ہے، اُس کے احاطے میں بڑی مقدار میں پرالی ذخیرہ کی گئی تھی جسے بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی دوران اچانک آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے مل کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی انتظامیہ نے محکمہ فائر بریگیڈ کو طلب کیا، جس کے بعد متعدد گاڑیاں موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے میں مصروف ہو گئیں۔آخری اطلاع ملنے تک آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری تھیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایک روز قبل بدھ کو بھی امن پیپر مل میں گنے کے فضلے میں آگ لگنے سے نقصان ہوا تھا۔ مسلسل دو دنوں میں ایک جیسی نوعیت کے واقعات کے بعد مقامی سطح پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ کچھ افراد اسے صنعتی یونٹوں کی لاپروائی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض لوگ اسے بیمہ دعوے سے بھی جوڑ رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے اور اصل وجہ جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔فائر بریگیڈ اہلکاروں کے مطابق کومل پیپر مل میں آگ بجھانے کے مناسب آلات موجود نہیں تھے، جبکہ اس نوعیت کی صنعتی اکائیوں میں آگ سے بچاؤ کے آلات کی تنصیب لازمی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر صنعتی یونٹوں میں مکمل حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث نقصان بڑھ جاتا ہے کیونکہ فائر اسٹیشن سے موقع تک پہنچنے میں تقریباً پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد صنعتی علاقے میں حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande