اے ایم یو کے محققین نے ماحولیات دوست اینٹ کے اختراع کے لئے پیٹنٹ حاصل کیا
علی گڑھ, 26 فروری (ہ س)پائیدار تعمیرات کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سول انجینئرنگ کے محققین نے ماحولیات دوست اینٹ کی ایک جدید ترکیب تیار کی ہے، جو مضر ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی مواد کی کارک
پروفیسر محبوب


علی گڑھ, 26 فروری (ہ س)پائیدار تعمیرات کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سول انجینئرنگ کے محققین نے ماحولیات دوست اینٹ کی ایک جدید ترکیب تیار کی ہے، جو مضر ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی مواد کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نئی تیار کردہ اینٹ کی ترکیب، جس میں گوبر، چونا، فلائی ایش اور مٹی شامل ہیں، تحقیقی ٹیم کی جانب سے جمع کرائی گئی مکمل پیٹنٹ تفصیلات میں بیان کی گئی ہے۔ ان اینٹوں کو ہوا اور دھوپ میں خشک کرکے تیار کیا جاتا ہے، جس کے باعث روایتی بلند درجہ حرارت پر پکانے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آتی ہے۔

تحقیق کے مطابق بہترین آمیزہ 25 فیصد گوبر، 10 فیصد چونا، 60 فیصد فلائی ایش اور 5 فیصد مٹی پر مشتمل ہے، جس سے تیار ہونے والی اینٹیں روایتی مٹی کی اینٹوں کے مقابلے میں زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت، کم کثافت اور پانی جذب کرنے کی کم شرح ظاہر کرتی ہیں۔

”گوبر، چونا، فلائی ایش اورمٹی کے استعمال سے پائیدار اینٹوں کی تیاری کا آمیزہ“ کے عنوان سے یہ ریسرچ سابق ایم ٹیک طالب علم ڈاکٹر الطاف عثمانی کے ساتھ تیار کی گئی، جسے حکومت ہند کے جنرل پیٹنٹ دفتر کی جانب سے شائع کیا گیا ہے۔

اس اختراع کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر محبوب انور خان، شعبہ سول انجینئرنگ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ یہ پائیدار اینٹ روایتی اینٹ بھٹوں پر انحصار کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ زرعی اور صنعتی فضلے کے استعمال سے نہ صرف زرخیز مٹی کا تحفظ ممکن ہے بلکہ کم کاربن اخراج کے ساتھ مضبوط، ہلکی اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر متبادل بھی فراہم ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اینٹ عمارتوں کے اندر درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے، جس سے گھروں اور تجارتی عمارتوں میں بجلی کی کھپت کم ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، گوبر کی قدرتی کیڑے بھگانے اور حرارتی مزاحمت کی خصوصیات کمرہ کی اندرونی ہوا کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق اینٹوں کا کم وزن عمارت پر پڑنے والے بوجھ کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے، جس سے تعمیراتی لاگت میں بھی کمی آتی ہے۔ گوبر اور فلائی ایش جیسے وافر اور کم لاگت والے مواد کے استعمال کے باعث یہ اختراع دیہی اور کم لاگت والے رہائشی منصوبوں کے لیے خاص طور پر موزوں ہے۔

امید ہے کہ اے ایم یو کی یہ ایجاد تعمیراتی شعبہ میں خاص توجہ حاصل کرے گی اور ماحولیات دوست اور پائیدار تعمیراتی طریقوں کی جانب تیز پیش قدمی میں مددگار ثابت ہوگی۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande