
بھوپال کے لوہا بازار میں تنازعہ، برقعہ پوش خاتون پر گوشت پھینکنے کا الزام، دونوں فریق آمنے سامنے
بھوپال، 26 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے کوتوالی تھانہ علاقے میں واقع لوہا بازار اور لکھیرا بازار میں جمعرات کو اس وقت کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی، جب تاجروں نے ایک برقعہ پوش خاتون کو مبینہ طور پر دکانوں کے سامنے گوشت کے ٹکڑے پھینکتے ہوئے پکڑ لیا۔ واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، جس میں خاتون کے ہاتھوں میں پہنے دستانوں پر لال رنگ کے دھبے دکھائی دے رہے ہیں۔
وائرل ویڈیو میں کچھ تاجر خاتون سے تیکھی بحث کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کیمرے میں خاتون کے دستانوں پر لال نشانات نظر آتے ہیں، جنہیں تاجر گوشت کا خون بتا رہے ہیں۔ ویڈیو میں خاتون خود کو ایک این جی او سے وابستہ بتاتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ آوارہ کتوں کو کھانا کھلا رہی تھی۔ بحث کے دوران 112 نمبر پر کال کرنے اور تھانے چلنے کی بات بھی سنائی دیتی ہے۔ موقع پر بھیڑ جمع ہو گئی اور کچھ لوگوں نے خاتون کی کار کی چابی اپنے پاس رکھ لی۔
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ بازار کے علاقے میں مندر اور جین مندر واقع ہیں، جہاں عقیدت مندوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ الزام ہے کہ پچھلے ایک دو مہینوں سے دکانوں کے سامنے گوشت کے ٹکڑے پھینکے جا رہے تھے، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے تھے۔ تاجروں کا دعویٰ ہے کہ کئی بار سمجھانے کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا۔
ویڈیو میں خاتون معافی مانگتے ہوئے آئندہ خیال رکھنے کی بات کہتی سنائی دیتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف کتوں کو کھانا کھلا رہی تھی اور کسی کے جذبات مجروح کرنے کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ ادھر اس معاملے کو لے کر ہندو اتسو سمیتی کے عہدیداروں اور تاجروں نے کوتوالی تھانے پہنچ کر میمورنڈم سونپا اور متعلقہ خاتون کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سمیتی کے صدر چندر شیکھر تیواری نے کہا کہ پرانے بھوپال کے بازار کے علاقے میں دکانوں اور مندروں کے سامنے گوشت کے ٹکڑے پھینکے جانے سے تاجروں میں غصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں جین مندر اور شیو مندر واقع ہیں، جہاں عقیدت مندوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ ایسے میں اس طرح کی سرگرمیوں سے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
سینئر نائب صدر انل چودھری کی قیادت میں میمورنڈم دے کر متعلقہ خاتون کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ کوتوالی تھانے کے ٹی آئی کاشی رام کشواہا نے بتایا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے۔ خاتون کو پہلے بھی سمجھایا جا چکا ہے۔ معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور حقائق کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن