
بھوپال میں رجک سماج کا احتجاج، پوری ریاست میں ایس سی درجہ نافذ کرنے کا مطالبہ
بھوپال، 26 فروری (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں جمعرات کو متحدہ محاذ رجک سماج کی قیادت میں بڑی تعداد میں سماج کے لوگ جمع ہوئے اور دھرنا مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے انتباہ دیا کہ جب تک وزیر اعلیٰ خود آکر ان کے مطالبات پر واضح یقین دہانی نہیں کرائیں گے، تب تک تحریک ختم نہیں کی جائے گی۔ احتیاطاً انتظامیہ نے جلسہ گاہ کے آس پاس بیریکیڈنگ کر دی ہے۔ دوپہر کے بعد سی ایم ہاوس کی طرف مارچ کا بھی اعلان کیا گیا۔
متحدہ محاذ کے سینئر کنوینر کیلاش ناہر نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں رجک سماج کو صرف بھوپال، سیہور اور رائسین اضلاع میں درج فہرست ذات (ایس سی) کا درجہ حاصل ہے، جبکہ باقی 52 اضلاع میں اسی سماج کو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہی سماج کے لیے الگ الگ اضلاع میں مختلف ریزرویشن کا نظام سماجی عدم مساوات کو جنم دیتا ہے۔ ناہر کے مطابق، سماج کے نمائندوں نے اپنے مطالبات کو لے کر 500-400 کلومیٹر تک پیدل مارچ کیا اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک پہنچ کر میمورنڈم سپرد کیا، لیکن اب تک کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس بار تحریک واضح فیصلے کے بغیر ختم نہیں ہوگی۔
یوتھ ریاستی کنوینر مونو لکشمن رجک نے کہا کہ سماج کا سب سے بڑا مطالبہ علاقائی پابندی ختم کرنے کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درج فہرست ذات میں شامل ہونے کے باوجود علاقائی حد بندی نافذ ہونے سے سماج کو مساوی حقوق نہیں مل پا رہے ہیں۔ یہ جدوجہد 75-70 برسوں سے جاری ہے، جسے اب نئی نسل آگے بڑھا رہی ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ پرامن طریقے سے اپنی بات رکھ رہے ہیں، لیکن اگر مطالبات پر مثبت فیصلہ نہیں ہوا تو تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن