
کمیونٹی میڈیسن کی جانب سے کم عمری کی شادی کے خلاف بیداری پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 26 فروری (ہ س)۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے سی ایچ سی، جواں میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک بیداری پروگرام صدر شعبہ پروفیسر عظمیٰ ارم کی رہنمائی اور ڈاکٹر تبسم نواب، اسسٹنٹ پروفیسر، نیز ڈاکٹر انکت سنگھ، انچارج میڈیکل آفیسر کی نگرانی میں منعقد کیا۔ بیداری نشست میں مقامی افراد کو کم عمری کی شادی کے سنگین سماجی، قانونی اور صحت سے متعلق نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور اس کے تدارک کے لیے اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا گیا۔
ڈاکٹر یوراج سنگھ (جے آر 2) نے حاضرین کو شادی کی قانونی عمر، کم عمری کی شادی کے خلاف ایکٹ 2006 کی اہم دفعات اور پوکسو ایکٹ 2012 کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے چائلڈ ہیلپ لائن 1098 کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ بچیوں میں تعلیم کو فروغ دیں، پیدائش کے رجسٹریشن کو یقینی بنائیں اور کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے گاؤں پنچایت کی کوششوں کی حمایت کریں۔
ڈاکٹر سری لکشمی کے (جے آر 2) نے کم عمری میں شادی کے صحت پر پڑنے والے خطرات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کم عمری میں حمل جسمانی ناپختگی اور غذائی کمی کے باعث زچگی سے متعلق پیچیدگیوں میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے کم عمر کی دلہنوں میں خون کی کمی کے مسئلے اور وقت سے پہلے شادی کرنے والی لڑکیوں کو درپیش جذباتی و سماجی مشکلات پربھی روشنی ڈالی۔
مقررین نے سماجی اثرات پر بھی گفتگو کی، جن میں تعلیم کا منقطع ہونا، روزگار کے محدود مواقع، مالی انحصار اور خودمختاری کا فقدان شامل ہیں۔ پروگرام میں زور دیتے ہوئے کہا گیا”اگر کوئی روایت بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرے تو روایت اور ہماری سوچ دونوں کو بدلنا ضروری ہے“۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ