سنیل نائک نے اریسٹ وارنٹ کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا
امراوتی، 26 فروری (ہ س)۔ بہار کیڈر میں ایک آئی جی سطح کے افسر سنیل نائک نے اپنے خلاف جاری اریسٹ وارنٹ کی معطلی کے لئے آندھرا پردیش ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ جمعرات کو ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف درج معاملہ سیاسی طور پر م
Arrest-warrant-Bihar-IPS-off


امراوتی، 26 فروری (ہ س)۔ بہار کیڈر میں ایک آئی جی سطح کے افسر سنیل نائک نے اپنے خلاف جاری اریسٹ وارنٹ کی معطلی کے لئے آندھرا پردیش ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ جمعرات کو ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف درج معاملہ سیاسی طور پر محرک ہے اور انہیں غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے کے لیے دائر کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں گنٹور کی ایک عدالت نے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جس کی تعمیل کرانے کے لئے آندھرا پردیش پولیس پٹنہ (بہار) پہنچ گئی تھی۔ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا، لیکن پٹنہ کی عدالت نے ان کا ٹرانزٹ ریمانڈ دینے سے انکار کر دیا۔ اب آندھرا پردیش پولیس کی ٹیم اس حکم کو بہار کی اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کی بات کر رہی ہے۔

فی الحال بہار کے فائر ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر سنیل نائک 2005 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں۔ اصل میں گنٹور، آندھرا پردیش کے رہنے والے، نائک نے 2020 سے 2023 تک آندھرا پردیش میں ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ریاستی انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) میں ڈی آئی جی کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان پر وائی ایس آر سی پی اور جگن موہن ریڈی کے دور میں سابق ممبر پارلیمنٹ رگھو رام کرشن راجو کو حراست میں لے کر تشدد کرنے اور جان سے مارنے کی سازش رچی۔

رام کرشن راجو فی الحال قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ہیں۔ ان کے ذریعہ درج کروائے گئے معاملے میں ہی سنیل نائک کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری ہوا ہے۔ عدالت کے ذریعہ جانچ میں شامل ہونے کے لئے بھیجے گئے سمن کے باوجود بھی جب وہ کورٹ میں پیش نہیں ہوئے تو تب ان کا گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا۔ تاہم،پٹنہ کی عدالت نے ریاستی پولیس کے ایک سینئر افسر کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر بھیجنے سے انکار کر دیا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande