بینک لون فراڈمعاملے میں سی بی آئی نے انل امبانی کے ممبئی کے احاطے پر چھاپہ مارا
نئی دہلی، 26 فروری (ہ س)۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ سے متعلق بینک آف بڑودہ قرض کیس کے سلسلے میں صنعت کار انل امبانی کے ممبئی کی رہائش گاہ اور دفتر کی تلاشی لی۔ یہ کارروائی 2,220 کروڑ روپے سے زیادہ کے مبینہ قرض دھوک
ANIL-AMBANI-CBI-SEARCH-MUMBAI


نئی دہلی، 26 فروری (ہ س)۔ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ سے متعلق بینک آف بڑودہ قرض کیس کے سلسلے میں صنعت کار انل امبانی کے ممبئی کی رہائش گاہ اور دفتر کی تلاشی لی۔ یہ کارروائی 2,220 کروڑ روپے سے زیادہ کے مبینہ قرض دھوکہ دہی کے سلسلے میں کی گئی۔

سی بی آئی کے مطابق، 24 فروری 2026 کو بینک آف بڑودہ کی شکایت کی بنیاد پر، ریلائنس کمیونیکیشن لمیٹڈ، اس کے پروموٹر اور سابق چیئرمین انل امبانی اور دیگر کے خلاف مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی اور بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ریلائنس کمیونیکیشنز نے بینک سے حاصل کردہ قرض کو متعلقہ فریقوں کے ساتھ فرضی لین دین دکھا کر ڈائیورٹ کیا اور اس کا غلط استعمال کیا۔ کمپنی کے کھاتوں میں ہیرا پھیری کی گئی اور بے ضابطگیوں کو چھپایا گیا۔ اس کے نتیجے میں بینک آف بڑودہ کو 2,220 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

سی بی آئی کے مطابق، یہ اکاو¿نٹ سال 2017 میں ہی این پی اے قرار دیا گیا تھا، تاہم، انل امبانی کی طرف سے بامبے ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ایک عرضی نے اکاو¿نٹ کو فراڈ قرار دینے پر روک لگا دی تھی۔ 23 فروری 2026 کو پابندی ہٹائے جانے کے بعد، بینک آف بڑودہ نے شکایت درج کرائی اور سی بی آئی نے فوری طور پر مقدمہ درج کیا۔

تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ ریلائنس کمیونیکیشن کے خلاف اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شکایت کی بنیاد پر 11 بینکوں کے کنسورشیم سے منسلک ایک الگ معاملے میں پہلے ہی ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بینک آف بڑودہ اس کنسورشیم کا حصہ نہیں تھا۔ یہ قرض بینک آف بڑودہ، سابقہ وجیا بینک اور دینا بینک سے لیے گئے تھے، جو اب بینک آف بڑودہ میں ضم ہو گئے ہیں۔

مقدمہ درج کرنے کے بعد سی بی آئی نے انل امبانی کی رہائش گاہ اور ریلائنس کمیونیکیشن کے رجسٹرڈ دفاتر کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران قرض کے لین دین سے متعلق مختلف دستاویزات برآمد کی گئیں۔ سی بی آئی نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔

ہندوستھا سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande