
شملہ، 26 فروری (ہ س)۔ یوتھ کانگریس کے تین کارکنوں کو حراست میں لینے کا معاملہ اب قانونی رسہ کشی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دہلی پولیس نے تینوں نامزد ملزمان کو بدھ کی آدھی رات تقریباً ایک بجے اے سی جے ایم شملہ کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں ٹرانزٹ ریمانڈ مل گیا۔ ریمانڈ ملنے کے بعد ضروری کارروائیاں مکمل کرتے ہوئے دہلی پولیس جمعرات کی صبح تقریباً 6 بجے تینوں ملزمان کو اپنے ساتھ لے کر دہلی کے لیے روانہ ہو گئی۔
دہلی پولیس کے مجاز وکیل نند لال ٹھاکر نے کہا کہ عدالت سے قانونی طریقے سے ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے اور پوری کارروائی قانون کے دائرے میں کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق عدالت سے اجازت ملنے کے باوجود ضلع پولیس نے دہلی پولیس کی گاڑیوں کو صبح تقریباً 5 بج کر 55 منٹ تک روکے رکھا۔ اس کے بعد ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے پر قافلے کو آگے بڑھنے دیا گیا۔
یہ پورا تنازعہ بدھ کی علی الصبح شروع ہوا تھا، جب دہلی پولیس کی ٹیم روہڑو سب ڈویژن کے چڑگاوں علاقے میں پہنچی اور ایک نجی ریزورٹ میں مقیم یوتھ کانگریس کے تین کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ بتایا گیا کہ یہ تینوں اے آئی سمٹ میں ہونے والے مبینہ ہنگامے اور شرٹ لیس احتجاج کے معاملے میں مطلوب تھے۔
ادھر، مقامی سطح پر معاملہ تب گرما گیا جب ہماچل پولیس کو شکایت ملی کہ 20-15 لوگ سادے کپڑوں میں آئے اور مانڈلی واقع چانشل کیمپ ریزورٹ سے تین مہمانوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ شکایت کنندہ سندیپ رنجن ولد نیگی رام کی شکایت پر تھانہ چڑگاوں میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں تعزیرات ہند کی دفعات (3)140، (4)329، (2)127 اور 190 لگائی گئیں۔ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ٹیم سی سی ٹی وی کا ڈی وی آر اور ایک تھار گاڑی بھی ساتھ لے گئی۔
بعد میں واضح ہوا کہ کارروائی دہلی پولیس کی تھی۔ ہماچل پولیس کا کہنا ہے کہ بین ریاستی کارروائی کے قوانین کے تحت مقامی پولیس کو پہلے اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے، جو اس معاملے میں نہیں دی گئی۔ اسی بنیاد پر دہلی پولیس کی کارروائی کو لے کر اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔
بدھ کو دن کے وقت ضلع پولیس نے کنڈا گھاٹ اور شوگھی بیریئر پر دہلی پولیس کی گاڑیوں کو روکا اور تینوں نوجوانوں کو ٹیم سمیت ضلع عدالت چکر، شملہ لایا گیا۔ بالو گنج پولیس کی جانب سے دہلی پولیس کے خلاف اے سی جے ایم کورٹ میں نجی شکایت بھی دائر کی گئی، جسے عدالت نے اگلی تاریخ کے لیے درج کر لیا۔ معلومات کے مطابق شام کو ٹرانزٹ ریمانڈ ملنے کے بعد دہلی پولیس ملزمان کو لے کر روانہ ہوئی تھی، لیکن شوگھی بیریئر پر شملہ پولیس نے قافلے کو پھر روک لیا تھا۔ دیر رات چلی قانونی کارروائی کے بعد بالآخر جمعرات کی صبح دہلی پولیس تینوں ملزمان کو لے کر شملہ سے نکل گئی۔
اس واقعے نے بین ریاستی پولیس کارروائی کے قوانین اور باہمی ہم آہنگی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آگے کی قانونی صورتحال عدالت کی اگلی سماعت میں مزید واضح ہو سکتی ہے۔
اس دوران لیڈر حزب اختلاف جے رام ٹھاکر نے ہماچل حکومت اور پولیس کی کارروائی پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین ریاستی آپریشن میں دہلی پولیس کو تعاون ملنا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر سیاسی دباو میں کام کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن