سیکورٹی کا دہشت گرد سیف اللہ گروپ کے بعد جہانگیر سروڑی اگلا ہدف
جموں, 24 فروری (ہ س)۔ ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں حالیہ انکاؤنٹر میں تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد سیف اللہ گروپ کا خاتمہ سیکورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اب فورسز کی توجہ
Encounter


جموں, 24 فروری (ہ س)۔ ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں حالیہ انکاؤنٹر میں تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد سیف اللہ گروپ کا خاتمہ سیکورٹی فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اب فورسز کی توجہ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے سرگرم دہشت گرد عبدالغنی عرف جہانگیر سروڑی اور اس کے ساتھی ریاض کی تلاش پر مرکوز ہے۔

ذرائع کے مطابق جہانگیر سروڑی سن 1990 کی دہائی سے وادی میں سرگرم ہے اور 2008 کے بعد سے منظر عام پر نہیں آیا۔ اس کی آخری جھڑپ 63 راشٹریہ رائفل کے ساتھ شروت دھار کے مقام پر ہوئی تھی، جس میں فوج کے ایک میجر شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ فرار ہو گیا اور متعدد بڑی دہشت گرد کارروائیوں میں اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔

سیکورٹی فورسز نے حالیہ دنوں میں جیسے عادل اور سیف اللہ سمیت دیگر دہشت گردوں کو مار گرایا، اب جہانگیر اور ریاض کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔ سال 2018-19 میں پریہار برادران اور چندرکانت کے قتل میں ملوث دہشت گرد اسامہ کو بٹوت میں ہلاک کر دیا گیا تھا، تاہم اس واقعے کے پس پردہ بھی جہانگیر کا ہاتھ ہونے کی بات سامنے آتی رہی۔

سیکورٹی ایجنسیاں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ جہانگیر اتنے عرصے تک گرفت سے باہر کیسے رہا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ خفیہ طور پر نیٹ ورک چلا رہا ہے، جس میں نوجوانوں کو تربیت دینا اور شدت پسندی کی سوچ کو فروغ دینا شامل ہو سکتا ہے۔ فورسز نے اس سمت میں کئی کوششیں کی ہیں، تاہم اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔اطلاعات کے مطابق چھاترو سے آگے مڑوا اور واڑون کے علاقوں میں بھی دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی خبریں ملتی رہی ہیں، جس کے پیش نظر سیکورٹی آپریشن جاری ہے۔

دوسری جانب ریاض، جو اسی علاقے کا رہائشی بتایا جاتا ہے،اُس کی والدہ نے حال ہی میں سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے بیٹے سے خودسپردگی کی اپیل کی تھی۔ ان کی وفات ہو چکی ہے اور یہ ان کی آخری خواہش تھی کہ ان کا بیٹا ہتھیار ڈال دے، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود ریاض کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔جہانگیر سروڑی کی عمر اب 60 برس سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کے پاس ماضی میں ایک ایل ایم جی اور سیٹلائٹ فون بھی موجود تھا۔ سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود کسی محفوظ ٹھکانے سے سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے، اسی لیے اس کی گرفتاری یا ہلاکت سیکورٹی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande