لسانی تنوع نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور مذہب کو مضبوط کیا ہے: نائب صدر جمہوریہ
نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ ہندوستان کے لسانی تنوع نے ملک کے مشترکہ تہذیبی شعور اور مذہب کی حفاظت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی زبانوں نے کبھی ملک کو تقسیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ قومی اتحاد کو مضبوط کیا ہ

vp


نئی دہلی، 9 جنوری (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ ہندوستان کے لسانی تنوع نے ملک کے مشترکہ تہذیبی شعور اور مذہب کی حفاظت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی زبانوں نے کبھی ملک کو تقسیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ قومی اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ نائب صدر جمعہ کو یہاں تیسری بین الاقوامی ہندوستانی زبان کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

زبان کو تہذیب کا ضمیر بتاتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ زبانیں نسل در نسل اجتماعی یادداشت، علم، روایات اور اقدار کو محفوظ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدیم نوشتہ جات اور کھجور کے پتوں کے مخطوطات سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور تک ہندوستانی زبانوں نے فلسفہ، سائنس، شاعری اور اخلاقی روایات کو محفوظ رکھا ہے۔ چنئی میں سدھا ڈے کی تقریبات میں کھجور کے پتوں کے مخطوطات دیکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی کثیر لسانی اور بھرپور علمی روایت کے زندہ ثبوت ہیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی ہر زبان نے فلسفہ، طب، سائنس، نظم و نسق اور روحانیت کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کا آٹھواں شیڈول ہندوستان کی قدیم حکمت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں لسانی تنوع کا احترام کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قومی اتحاد کو مساوات سے نہیں بلکہ باہمی احترام سے مضبوط کیا جاتا ہے۔ جمہوریت اسی وقت پروان چڑھتی ہے جب ہر شہری اپنی مادری زبان میں اظہار خیال کر سکے۔

راجیہ سبھا کے چیئرمین کے طور پر اپنے پہلے پارلیمانی اجلاس کے اپنے تجربے کا اشتراک کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اب زیادہ تعداد میں ممبران پارلیمنٹ میں اپنی مادری زبانوں میں بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کے ذریعہ آئین کے سنتھالی ترجمے کے اجراء کو لسانی شمولیت اور جمہوری احترام کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔

عصری چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت سی مقامی زبانیں خطرے سے دوچار ہیں۔ اس تناظر میں، زبان کی کانفرنسوں کا کردار، جو تحقیق، بین الاقوامی علمی تعاون، اور قدیم رسم الخط اور مخطوطات کے تحفظ میں سہولت فراہم کرتے ہیں، اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں نافذ کی گئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی تعریف کی، جو کثیر لسانی تعلیم کو فروغ دیتی ہے، اور گیان بھارتم مشن کو ہندوستانی زبانوں میں مخطوطات کے تحفظ اور پھیلاؤ کے لیے ایک طاقتور ذریعہ قرار دیا۔

زبان کے تحفظ میں ٹکنالوجی کو ایک اتحادی بننے کا مطالبہ کرتے ہوئے نائب صدر نے ڈیجیٹل آرکائیوز، اے آئی پر مبنی ترجمے کے آلات اور کثیر لسانی پلیٹ فارم کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زبانوں کا تحفظ ہندوستان کی تہذیب کی حفاظت کرتا ہے، لسانی تنوع کو پروان چڑھانے سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور ہر زبان کا احترام انسانی وقار کی حفاظت کرتا ہے۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس (آئی جی این سی اے) کے صدر اور معروف مفکر پدم بھوشن رام بہادر رائے نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ہندوستانی زبانوں پر دوبارہ غور کرنے اور کام کرنے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے اس تصور کو مسترد کر دیا کہ ہندوستانی زبانیں مختلف خاندانوں میں تقسیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ گمراہ مصنفین اور ماہرین لسانیات نے یہ تصور پھیلایا کہ ہندوستانی زبانیں چار خاندانوں میں بٹی ہوئی ہیں لیکن آج یہ ثابت ہو گیا ہے کہ تمام ہندوستانی زبانیں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ زبانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے مکالمے سے لسانی اور ثقافتی اتحاد کی لہر پیدا ہوگی۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی جاپان کے سینئر ماہر لسانیات پدم شری ٹومیو میزوکامی نے کانفرنس سے ہندی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہندوستانی ہیں جو اتفاق سے جاپان میں پیدا ہوئے ہیں۔

اس موقع پر سابق مرکزی وزیر تعلیم ڈاکٹر رمیش پوکھریال 'نشنک'، بین الاقوامی تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل شیام پراندے سمیت اسکالرز، ماہرین تعلیم، ماہرین لسانیات، محققین، اور ہندوستان اور بیرون ملک کے نمائندے موجود تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande