
وارانسی، 08 جنوری (ہ س)۔ اتر پردیش کے وارانسی سمیت پوروانچل کے اضلاع میں گھنی دھند کی وجہ سے جمعرات کی صبح 10 بجے تک معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ گاڑیوں کی رفتار سست ہو گئی ۔ سڑکوں پر ڈرائیور فوگ لائٹس آن کرکے اپنی منزلوں کی طرف آہستہ آہستہ چلتے نظر آئے ۔ بازار اور سڑکوں پر صبح 10 بجے کے بعد ہی لوگوں کی آمد ورفت نظر آئی ۔ لوگ صبح سویرے صرف ضروری کاموں کے لیے ہی سڑکوں پر آتے جاتےنظر آئے۔حالانکہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی گھنی دھند کے لیے ایلو الرٹ جاری کر دیا تھا۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز کے لئے پیشگوئی بھی جاری کر دی ہے۔ جمعہ، 9 جنوری کو وارانسی اور آس پاس کے اضلاع کے ساتھ ساتھ مشرقی اتر پردیش میں بھی گھنی دھند چھائے رہنے کی توقع ہے۔ پہاڑوں پر مسلسل برف باری کے اثرات کاشی میں بھی نظر آرہے ہیں۔ سردی سے نمٹنے کے لیے لوگ گرم کپڑوں اور الاؤ کا سہارا لے رہے ہیں۔
بی ایچ یو کے ماہر موسمیات پروفیسر منوج سریواستو کے مطابق، نمی کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے ٹھنڈی ہوا اوپر نہیں اٹھ پا رہی ہے۔ لوگوں کو سخت سردی سے کوئی راحت نہیں مل رہی۔اس کوہرا بھی گھنا ہوتا جا رہا ہے۔ فی الحال اسی طرح سردی، دھند، اور گلن والا موسم 11 جنوری تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔ ایک ویسٹرن ڈسٹربنس فعال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس سے پہلے لوگوں کو سردی اور دھند سے راحت ملنے کا امکان نہیں ہے۔
لکھنؤ کے علاقائی موسمیاتی مرکز کی پیش گوئی کے مطابق 9 جنوری سے فعال ہونے والا ویسٹرن ڈسٹربنس درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کو سردی سے کچھ راحت فراہم کرے گا، لیکن یہ ڈسٹربنس ختم ہونے کے بعد مکر سنکرانتی کے آس پاس پارہ ایک بار پھر نیچے آئے گا اور سردی پھر بڑھے گی۔
واضح رہے کہ وارانسی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت گر گیا ہے۔ جمعرات کی صبح 11 بجے وارانسی شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 18 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ ادھر سردی اور گھنی دھند بھی زراعت کو متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے آلو اور سرسوں کی فصلیں متاثر ہوں گی۔ تاہم سردیگیہوں کے لیے فائدہ مند بتائی گئی ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد