
جو جیتا وہی سکندر، بغیر اقتدار کسی کی بات نہیں سنی جاتی : ریونت ریڈیحیدرآباد، 8 جنوری (ہ س)۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے گاندھی بھون میں کانگریس پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں جو جیتتا ہے وہی سکندر ہوتا ہے، جو نہیں جیتتا، اس کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آج لوگ اس لیے ہماری بات سن رہے ہیں کیونکہ ہم حکومت میں ہیں، اگر حکومت میں نہ ہوتے تو کوئی سننے والا نہ ہوتا۔ ریونت ریڈی نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں شناخت صرف محنت اور جدوجہد سے ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس پارٹی نہ ہوتی تو آج نہ وہ وزیر اعلیٰ ہوتے اور نہ ہی ان کی کوئی پہچان ہوتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرسی کے بغیر کسی کی سیاست میں کوئی شناخت نہیں ہوتی، اور یہ شناخت صرف پارٹی اور کارکنوں کی محنت سے بنتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کارکنوں کو تلقین کی کہ انتخابات جیتنے کے لیے گلی گلی اور گھر گھر جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص اپنے لیے محنت کرتا ہے، پسینہ اور خون بہاتا ہے، اسی طرح پارٹی کے امیدواروں کو جتوانے کے لیے بھی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کارکن محنت نہ کریں تو لیڈر بھی نہیں بن سکتے۔ ریونت ریڈی نے پارٹی نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر بات کرنے کی گنجائش ہوتی ہے، لیکن جب ایک بار پارٹی فیصلہ کر لے اور کسی کو بی فارم دے دیا جائے تو سب کو مل کر اسی امیدوار کو جتوانا ہوگا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ذاتی پسند اور ناپسند کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پارٹی کا فیصلہ سب سے اوپر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہی انہیں پہچان دی اور آج اسی وجہ سے ملک بھر میں لوگ انہیں جانتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں لاکھوں لوگ ہیں، لیکن انہیں کوئی نہیں جانتا، شناخت صرف پارٹی اور اقتدار کے ذریعے بنتی ہے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ جو لوگ پارٹی لائن سے ہٹ کر چلیں گے، ان کے لیے آگے دروازے بند ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے آنے والے انتخابات کے پیش نظر کارکنوں سے اپیل کی کہ متحد ہو کر کام کریں اور پارٹی فیصلوں کی مکمل پاسداری کریں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ تلنگانہ کی سرزمین نے ہمیشہ کانگریس اور گاندھی خاندان کا ساتھ دیا ہے۔آج بھی راہل گاندھی کو نشانہ بنانے کے لیے ای ڈی، انکم ٹیکس اور سی بی آئی جیسے اداروں کا استعمال کیا جارہا ہے، اس لیے تمام کانگریس کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہو کر راہل گاندھی کے ساتھ کھڑے ہوں اور انہیں ملک کا وزیر اعظم بنانے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ جدوجہد کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق