امریکی صدر نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے 66 عالمی تنظیموں سے نکلنے کا کیااعلان
واشنگٹن ،08جنوری (ہ س )۔ دنیا بھر میں امریکہ اور وینزویلا کے درمیان گزشتہ دنوں پیش آئے واقعات پر چرچے ہو رہے ہیں اور امریکی اقدامات کی کی تنقید بھی کی جا رہی ہے ۔وہیں دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے جو عالمی برادری کے لئے
امریکی صدر نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے 66 عالمی تنظیموں سے نکلنے کا کیااعلان


واشنگٹن ،08جنوری (ہ س )۔

دنیا بھر میں امریکہ اور وینزویلا کے درمیان گزشتہ دنوں پیش آئے واقعات پر چرچے ہو رہے ہیں اور امریکی اقدامات کی کی تنقید بھی کی جا رہی ہے ۔وہیں دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے جو عالمی برادری کے لئے باعث تشویش ہو سکتی ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکہ کو نکالنے اور ا±ن کی مالی معاونت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے جن 66 عالمی تنظیموں سے نکلنے کا اعلان کیا ہے ان میں ماحولیات، امن اور جمہوریت پر عالمی تعاون کے بڑے فورمز شامل ہیں۔

وائٹ ہاو¿س کی جاری کردہ فہرست میں 35 ایسے ادارے ہیں جو اقوام متحدہ میں شامل نہیں ہیں، اِن میں بین الاقوامی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی آئی پی سی سی ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر خاص طور پر نمایاں ہیں۔

وائٹ ہاو¿س کا کہنا ہے کہ امریکہ 31 اقوام متحدہ اداروں سے بھی دستبردار ہو رہا ہے، جن میں اقوام متحدہ کا مرکزی موسمیاتی معاہدہ یو این ایف سی سی سی ، اقوام متحدہ جمہوریت فنڈ اور زچہ و بچہ کی صحت پر کام کرنے والا اہم ادارہ یو این ایف پی اے شامل ہیں۔

اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 66 عالمی تنظیمیں امریکا کے بجائے اپنا ایجنڈا پروان چڑھاتی ہیں۔ ان عالمی تنظیموں کے ایجنڈے سے امریکہ کی خودمختاری اور خوشحالی کو خطرہ ہے۔

ہندستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande