مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی زمین پر حکومت کی نظر، طلبہ کا زبردست احتجاج
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی زمین پر حکومت کی نظر، طلبہ کا زبردست احتجاجحیدرآباد، 8 جنوری (ہ س)۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) میں شدید احتجاج اس وقت شروع ہو گیا جب تلنگانہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کی 50 ایکڑ اراضی دوبارہ
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی زمین پر حکومت کی نظر، طلبہ کا زبردست احتجاج


مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کی زمین پر حکومت کی نظر، طلبہ کا زبردست احتجاجحیدرآباد، 8 جنوری (ہ س)۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) میں شدید احتجاج اس وقت شروع ہو گیا جب تلنگانہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کی 50 ایکڑ اراضی دوبارہ حاصل کرنے کی تجویز پر مبنی نوٹس جاری کیا گیا۔ طلبہ نے اس اقدام کو اعلیٰ تعلیم اور عوامی تعلیمی اداروں پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مخالفت کی مانو اسٹوڈنٹس کلیکٹو کے بینر تلے طلبہ نے مرکزی لائبریری سے بابِ علم تک ریلی نکالی اور’لینڈ چوری نامنظور‘جیسے نعرے لگائے، ساتھ ہی نوٹس کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج 15 دسمبر کو رنگاریڈی ضلع کلکٹر کے دفتر کی جانب سے مانو کے رجسٹرار اشتیاق احمد کو جاری کیے گئے نوٹس کے بعد سامنے آیا، جس میں سات دن کے اندر وضاحت طلب کی گئی تھی کہ منی کونڈا گاؤں، گنڈی پیٹ منڈل کے سروے نمبر 211 اور 212 میں واقع 50 ایکڑ زمین کو دوبارہ کیوں نہ حاصل کر لیا جائے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 1998 میں مانو کو الاٹ کی گئی 200 ایکڑ زمین میں سے تقریباً 150 ایکڑ پر تعمیرات موجود ہیں جبکہ 50 ایکڑ زمین خالی ہے، جسے انتظامیہ نے’غیر استعمال‘ قراردیا ہے۔

نوٹس کے مطابق یہ زمین قیمتی سرکاری اراضی کے طور پر الاٹ کی گئی تھی اور اس کے غیر استعمال شدہ حصے شرائط کی خلاف ورزی کے تحت واپس لیے جا سکتے ہیں۔ اس میں معائنے کی رپورٹس اور سابقہ کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی نے تفصیلی جواب داخل کرنے کے لیے دو ماہ کی مہلت طلب کی ہے۔ احتجاج کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے طلبہ رہنما طلحہ منان نے کہا کہ یہ اقدام جامعات کو زمین کے ذخیرے(لینڈ بینک) کے طور پر دیکھنے کے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’یہ کوئی الگ تھلگ انتظامی قدم نہیں ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ یونیورسٹی آف حیدرآباد کی زمین لینے کی کوشش کی گئی۔ مانو کے طلبہ یہاں ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘انہوں نے کہا کہ زمین کے استعمال میں تاخیر کی وجوہات بیوروکریٹک رکاوٹیں، بروقت فنڈنگ کی کمی اور سی پی ڈبلیو ڈی جیسے اداروں پرانحصار ہیں اور اس بنیاد پر یونیورسٹیوں کو سزادینا ناانصافی اور بددیانتی ہے۔

مانو اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر متین اشرف نے کہاکہ حکومت کا یہ قدم ایسے وقت میں متضاد ہے جب یونیورسٹی کو شدید ہاسٹل بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سینکڑوں طلبہ، خاص طور پر حاشیے پر موجود اور اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، رہائش کے لیے پریشان ہیں۔اس زمین کو ہاسٹلز، لائبریریوں اور تعلیمی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے استعمال کیاجاناچاہیے، نہ کہ اسے واپس لینے کے نام پر چھین لیا جائے۔‘طلبہ نے مانو انتظامیہ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کو تنبیہ سمجھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر ہاسٹلز کی توسیع کے لیے واضح اقدامات کرے تاکہ ’غیر استعمال‘ کے سرکاری دعوے کا مؤثر جواب دیاجا سکے۔یونیورسٹی آف حیدرآباد اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر عتیق احمد نے بھی احتجاج میں شرکت کی اور مانو کے طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے طلبہ تنظیم ایس آئی او مانو یونٹ نے کہا کہ ’تلنگانہ کی موجودہ کانگریس حکومت، جو خود کو اقلیتوں کے حقوق کا علمبردار ظاہر کرتی ہے، اب اپنے حقیقی چہرے کے ساتھ عوام کے سامنے آرہی ہے۔ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی کی زمین کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی گئی اور اب ضلع کلکٹر کے ذریعے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی 50 ایکڑ زمین کو غیر استعمال شدہ قرار دے کر ہتھیانے کی ایک نہایت قابل مذمت کوشش کی جا رہی ہے۔‘ایس آئی او مانو یونٹ نے مزید کہاکہ ہم یہ واضح کر دیناچاہتے ہیں کہ اردو یونیورسٹی کی زمین کا ہر ایک حصہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور تدریسی و انتظامی خدمات انجام دینے والے افراد کا اجتماعی اثاثہ ہے۔اگر کوئی طاقت کے زور پر اس زمین پر ناجائز قبضے کی کوشش کرے گا تو اسے اسی نوعیت کی عوامی اور قانونی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے معاملے میں دیکھنے کو ملا تھا۔

اس معاملے پر سیاسی ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت یونیورسٹیوں کی زمینیں ہتھیانے کے لیے ’مشن موڈ‘میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ’کانچا گچی باؤلی میں ایچ سی یو کی زمین کے بعداب حکومت کی نظر اردو یونیورسٹی کی زمین پر ہے۔‘

وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ بندی سنجے کمار نے سوال اٹھایا کہ ریاستی حکومت یونیورسٹی کی زمین کو’بیچنے اور لوٹنے‘ کاارادہ رکھتی ہے۔

سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ حکومت گزشتہ دو برسوں سے بار باریونیورسٹیوں کی زمینوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس سے تعلیم اور تحقیق کے بارے میں اس کے رویے پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

بھارتیہ راشٹر سمیتی (بی آر ایس)کے ورکنگ صدرکے ٹی راماراؤ نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی یونیورسٹی اور اس کے طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے اپنے ایکس پوسٹ میں لکھا،’ہیلو راہل گاندھی جی، کیاآپ کو ذرابھی علم ہے کہ تلنگانہ میں آپ کی حکومت کیاکر رہی ہے؟کیا یہی تعلیم اور اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہونے کاآپ کا تصور ہے؟‘

انہوں نے مزید سوال کیاکہ’کیا یہ انصاف ہے کہ نئی ابھرتی ہوئی تعلیمی شعبوں کے لیے درکار زمین یونیورسٹیوں سے چھین لی جائے اوراسے وزیر اعلیٰ کی رئیل اسٹیٹ لالچ کی نذرکردیا جائے؟ ایک ذمہ دارحکومت کو تعلیمی اداروں کو مضبوط بناناچاہیے نہ کہ انہیں کمزورکرنا چاہیے۔‘

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande