
ارریہ، 8 جنوری (ہ س)
یکم اکتوبر 2025 کو ضلع کے بردہا تھانہ علاقے کے تحت ددھوا گاو¿ں میں آٹھ سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ اس کے بعد سے لڑکی شدید زخمی تھی اور اسے پورنیا گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
معصوم بچی بالآخر تین ماہ بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی تاہم اس کیس میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اگرچہ ایف ایس ایل تحقیقات کے ساتھ تکنیکی تحقیقات بھی کی گئی تھیں لیکن اب اس معاملے پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ معصوم بچی کی موت کے بعد اب پولیس کی کارروائیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یکم اکتوبر کو دوپہر 2:30 بجے جب والد بردہا تھانہ علاقہ کے تحت ددھوا گاو¿ں میں گھر واپس آیا تو اس نے اپنی آٹھ سالہ بیٹی سے کمبل ہٹایا جو اندر سو رہی تھی اور اسے خون میں لت پت پایا۔ اس کی شرمگاہ سے شدید چوٹیں اور خون بہتا دیکھ کر والد نے اسے فوری طور پر صدر اسپتال میں داخل کرایا۔ لڑکی کی نازک حالت کے پیش نظر اسے صدر اسپتال سے پورنیا گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال ریفر کیا گیا۔ لڑکی کے والد کے بیان کی بنیاد پر، ایک مقدمہ نمبر 46/25، مورخہ 02.10.2025، سیکشن 96/115(2)/65(2)/118(1) BNS 2023 اور 06 POCSO ایکٹ کے تحت خواتین پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔
متاثرہ لڑکی کا صدر اسپتال میں طبی معائنہ کرایا گیا۔ ایف ایس ایل کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، اور متاثرہ کے زیر جامے اور کمبل کو محفوظ کرکے ایف ایس ایل پٹنہ بھیج دیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ