سڈنی ٹیسٹ میں انگلینڈ کی پریشانیوں میں اضافہ، بین اسٹوکس گروئن انجری کے باعث میدان سے باہر
سڈنی، 7 جنوری (ہ س)۔ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو ایشز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ کے دوران گروئن (دائیں ایڈکٹر) کی چوٹ کی وجہ سے بدھ کو میدان چھوڑنا پڑا۔ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ(ایس سی جی )میں ٹیسٹ کے چوتھے دن کھیل کے تقریباً 15 منٹ بعد اسٹوکس کو
Sports-Cricket-Stokes-injury-Ashes


سڈنی، 7 جنوری (ہ س)۔ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو ایشز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ کے دوران گروئن (دائیں ایڈکٹر) کی چوٹ کی وجہ سے بدھ کو میدان چھوڑنا پڑا۔ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ(ایس سی جی )میں ٹیسٹ کے چوتھے دن کھیل کے تقریباً 15 منٹ بعد اسٹوکس کو پریشانی محسوس ہوئی اور وہ فوراً ڈریسنگ روم میں واپس آگئے۔

اسٹوکس بدھ کی صبح اننگز کے دوسرے اوور کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنے 28ویں اوور کی صرف چار گیندیں کی تھیں جب انہیں اچانک کھینچاؤ محسوس ہوا۔ اس وقت آسٹریلیا پہلی اننگز میں 523/7 پر تھا۔ اسٹوکس کا اوور جیکب بیتھل نے مکمل کیا۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے ترجمان نے کہا کہ ’’بین اسٹوکس کو ان کے دائیں ایڈیکٹر کے ساتھ کسی مسئلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مزید معلومات دستیاب ہوتے ہی ایک اپ ڈیٹ فراہم کیا جائے گا۔‘‘

بھاری ورک لوڈ کا اثر

اسٹوکس ایشز سیریز کے دوران انگلینڈ کے سب سے قابل اعتماد تیز گیند بازوں میں سے ایک رہے ہیں۔ انہوں نے سیریز میں 101.1 اوورز پھینکے جو ٹیم میں دوسرا سب سے زیادہ ہے۔ صرف برائیڈن کارس (130.4 اوورز) نے ان سے زیادہ گیندبازی کی۔ اسٹوکس نے سیریز میں 25.13 کی اوسط سے 15 وکٹیں حاصل کیں۔

انہوں نے سیریز کے دوران کئی لمبے اسپیلز کیے جس میں پرتھ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 5/23 کی شاندار کارکردگی شامل ہے۔ تاہم، ان کی مسلسل باؤلنگ اور نئی گیند سے بچنے کی حکمت عملی پر سوالیہ نشان اٹھتے رہے ہیں، خاص طور پر جب انگلینڈ کے معروف تیزگیندباز گس اٹکنسن اور جوفرا آرچر دستیاب نہیں تھے۔

ہیری بروک کو کپتانی کی ذمہ داری

اسٹوکس کے میدان چھوڑنے کے بعد نائب کپتان ہیری بروک نے پہلی بار کسی ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کی کپتانی کی۔ اس کے بعد آسٹریلیا نے اپنی آخری تین وکٹیں صرف 32 رن پر گنوا دیئے اور وہ 567 رن پر آل آؤٹ ہوگئی۔ آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں 183 رنز کی برتری حاصل ہے ۔

اسٹوکس 40 منٹ سے بھی کم وقت کے لیے میدان سے باہر رہے جس کی وجہ سے آئی سی سی کے قوانین کے تحت ان کی بلے بازی کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوئی۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ انگلینڈ کی دوسری اننگز میں اپنی معمول کی نمبر 6 پوزیشن پر بیٹنگ کریں گے یا نہیں۔

زخموں سے دوچار ہے کیریئر

گزشتہ 18 ماہ میں اسٹوکس کی یہ چوتھی انجری ہے۔ 2024 میں، وہ دی ہنڈریڈ کے دوران ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز سے باہر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے دوروں کے دوران بھی انجری نے ان کی پریشانی میں اضافہ کیا۔

34 سالہ اسٹوکس نے حال ہی میں ای سی بی کے ساتھ اپنے معاہدے میں 2027 تک توسیع کی ہے۔ انہوں نے سیریز سے قبل کہا تھا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انہیں فٹ رہنے کے لیے مزید محنت کرنی پڑتی ہے، لیکن ایک بار جب وہ میدان میں آتے ہیں تو ان کا مسابقتی جذبہ بڑھ جاتا ہے۔

آگے کی منصوبہ بندی

یہ چوٹ انگلینڈ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی ایشز میں 3-1 سے پیچھے ہے۔ اسٹوکس اب انگلینڈ کے سفید گیند کے منصوبوں کا حصہ نہیں ہیں اور ان کا اگلا ممکنہ بین الاقوامی میچ 4 جون کو لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے، وہ کاؤنٹی چیمپئن شپ میں ڈرہم کے لیے واپس آسکتے ہیں۔

اگرچہ ایشز سیریز کے آخری مراحل میں یہ چوٹ انگلینڈ کے لیے مایوس کن ہو سکتی ہے لیکن یہ یقیناً ایک راحت کی بات ہے کہ یہ سیریز کے آخری دنوں میں آئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande