ہندوستان کے مڈل ڈسٹینس رنر جنسن جانسن نے ڈیڑھ دہائی کے شاندار کیریئر کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا
نئی دہلی، 7 جنوری (ہ س)۔ ہندوستانی مڈل ڈسٹینس کے رنر جنسن جانسن نے بدھ کو مسابقتی ایتھلیٹکس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جس سے تقریباً ڈیڑھ دہائی پر محیط ایک شاندار کیریئر کا خاتمہ ہوا۔جنسن جانسن نے 2016 میں ریو اولمپکس میں 800 میٹر ایونٹ میں ہندوستا
ہندوستان کے مڈل ڈسٹینس رنر جنسن جانسن نے ڈیڑھ دہائی کے شاندار کیریئر کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا


نئی دہلی، 7 جنوری (ہ س)۔ ہندوستانی مڈل ڈسٹینس کے رنر جنسن جانسن نے بدھ کو مسابقتی ایتھلیٹکس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، جس سے تقریباً ڈیڑھ دہائی پر محیط ایک شاندار کیریئر کا خاتمہ ہوا۔جنسن جانسن نے 2016 میں ریو اولمپکس میں 800 میٹر ایونٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا اختتام 1500 میٹر میں قومی ریکارڈ کے ساتھ کیا، جو انہوں نے برلن میں 2019 کے آئی ایس ٹی اے ایف میٹنگ میں 3:35.24 منٹ میں قائم کیا۔ 2016 میں ریو اولمپکس میں ان کی شرکت نے انہیں 1980 میں سری رام سنگھ کے بعد 800 میٹر میں اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والا پہلا ہندوستانی مرد سپرنٹر بنا دیا۔

جنسن نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا’ایک خواب کے ساتھ ایک لڑکے کا سفر کولکاتا سے شروع ہوا اور 2023 ہانگڑو ایشین گیمز کے پوڈیم تک پہنچا۔ ایتھلیٹکس کی بدولت۔ کچھ سفر میٹر اور سیکنڈوں میں ناپا جاتا ہے، کچھ آنسوو¿ں، قربانیوں، ایمان اور ایسے لوگوں میں جو آپ کو کبھی مایوس نہیں کرتے۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے اولمپک گیمز، ورلڈ ایتھلیٹکس چمپئن شپ، ایشین گیمز، اور کامن ویلتھ گیمز میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، میں نے جب بھی ترنگا پہنا، میں صرف اپنے پیروں سے نہیں بلکہ دل سے دوڑتا ہوں۔

34 سالہ جنسن جانسن تین بار ایشین گیمز کا تمغہ جیتنے والے کھلاڑی ہیں۔ اس نے 2018 میں 1500 میٹر میں گولڈ، 2018 میں 800 میٹر میں سلور اور 2023 میں 1500 میٹر میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ اس نے بالترتیب 2015 اور 2017 ایشین ایتھلیٹکس چمپئن شپ میں بھی چاندی اور کانسی کے تمغے جیتے تھے۔جنسن نے 2018 میں 1:45.65 کے وقت کے ساتھ سری رام سنگھ کا 42 سال پرانا 800 میٹر کا قومی ریکارڈ توڑا۔ تاہم بعد میں یہ ریکارڈ محمد افضل نے 2025 میں توڑا۔

اپنی ریٹائرمنٹ پر، انہوں نے لکھا،’جب میں مسابقتی ایتھلیٹکس سے دور ہوتا ہوں، تو میں عاجزی، شکر گزاری اور امن کے ساتھ ایسا کرتا ہوں۔ ٹریک نے مجھے نظم و ضبط، لڑنے کا جذبہ اور احترام سکھایا۔ اگرچہ میں ریسنگ سے ریٹائر ہو رہا ہوں، ایتھلیٹکس ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گا۔ ہر چیز کے لیے آپ کا شکریہ۔ مجھ پر یقین کرنے کے لیے آپ کا شکریہ، ہندوستان۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande